.

مصری مسلح فوج اور سیسی کا ساتھ دیں: حسنی مبارک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک نے اپنی معزولی کے بعد پہلی بار قوم کے نام اپنے پیغام میں فوجی پس منظر رکھنے والے ملک کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی اور مسلح افواج کا ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش چیلنجز، خطرات سے نجات اور امن وامان کے قیام کے لیے صدر السیسی اور مسلح افواج کا ساتھ دینا وقت کا اہم تقاضا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق مصری صدر حسنی مبارک نے جزیرہ نما سیناء کی آزادی کی 33 ویں یوم آزادی کے موقع پر ایک ٹیلی ویژن چینل سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مصر اس وقت ایک نازک دور سے گذر رہا ہے۔

"موجودہ حالات میں فیلڈ مارشل ریٹائرڈ عبدالفتاح السیسی کی حمایت اور مدد کرنا نہ صرف مصر کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے بلکہ پورے عرب خطے کی اقوام کی بقاء اور سلامتی کے لیے لازمی ہے۔ انہوں نے تمام عرب ممالک سے داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹنے کے لیےاپنی صفوں میں اتحاد واتفاق پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔"

انہوں نے کہا کہ 25 اپریل کا دن ہماری قومی تاریخ میں باعث فخر دن ہے۔ اس روز ہماری بہادر افواج نے 'دشمن' [اسرائیل] کو شکست دیتے ہوئے جزیرہ نما سیناء کو آزاد کرایاتھا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اکتوبر بھی ہماری قوم کے لیے باعث فخر ہے جس میں ہماری افواج نے بہادری کے ناقابل بیان کارنامے انجام دیے۔

سابق صدر نے کہا کہ پچیس اپریل مصر کی تاریخ میں فتح ونصرت کا یادگار دن ہے۔ اس دن ہم نے سابق صدر انور سادات کے قتل کی سازش کے بعد ایک بار پھر ملک کا پرچم سر بلند کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر انور سادات کے قتل کے بعد مصری قوم کو مجتمع کرنے کے لیے تین مراحل پر مشتمل مہم میری نگرانی اور سر پرستی میں کامیاب ہوئی تھی۔ جزیرہ نما سیناء کی آزادی بھی اسی مہم کا حصہ تھی۔

انہوں نے پیغام میں دعوی کیا کہ پہلے مرحلے میں ہم نے سنہ 1975ء میں نہر سویز کا کنٹرول حاصل کیا۔ دوسرے مرحلے میں سنہ 1982ء میں امن معاہدہ کر کے والعریش اور راس محمد کے 40 ہزار کلومیٹر کے علاقوں کو مصر میں شامل کرایا اور تیسرا مرحلہ 25 اپریل 1982ء کو شروع ہوا جس میں ہم نے اسرائیل کو اپنی مشرقی حدود سے پیچھے دھکیل دیا۔

سرحدی شہر طابا کے بارے میں سابق مصری صدر کا کہنا تھا کہ طابا کے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنا ہمارے مشن میں شامل تھا مگر یہ صرف ایک کلو میٹر کا علاقہ ہے جس پر اسرائیل کا ایک ہوٹل بھی قائم تھا۔ اسرائیلیوں اس شہر پر سنہ 1982ء کے انخلاء سے قبل آئے تھے۔ اسرائیلیوں کا خیال تھا کہ طابا کبھی بھی تاریخی اعتبار سے مصر کا حصہ نہیں رہا ہے تاہم اس کے باوجود ہم نے تیسرے مرحلے میں اسے بھی آزاد کرا لیا تھا۔