.

یمنی صدر نے علی صالح کی مذاکرات کی پیشکش ٹھکرادی

سعودی عرب کی قیادت میں فیصلہ کن طوفان آپریشن جاری ہے: یاسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیرخارجہ ریاض یاسین نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری ’’فیصلہ کن طوفان‘‘ آپریشن اب بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر عبد ربہ منصورھادی نے حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی ہے اور کہا ہے جب تک یمن کے تمام شہروں سے حوثیوں کا قبضہ ختم نہیں ہوجاتا وہ ان سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے۔

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ یمن کا 70 فی صد علاقہ حوثیوں کے کنٹرول سے باہر آچکا ہے۔ عوامی مزاحمت کا سلسلہ بدستورجاری ہے۔ کم وسائل کے باوجود مزاحمتی قوتیں مسلسل پیش قدمی کررہی ہیں۔

وزیرخارجہ ریاض یاسین نے مزید کہا کہ صدر عبد ربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے ساتھ اس وقت تک کوئی مفاہمت نہیں کریں گے جب تک وہ ملک پرغیرآئینی قبضہ ختم نہیں کردیتے ہیں ۔ صدر ھادی نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے مذاکرات کی پیش کش بھی ٹھکرادی ہے۔

خیال رہے کہ یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے گذشتہ روز اپنے دورہ برطانیہ کے دوران لندن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں ملک کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بریفنگ دی۔

حوثی تین شہروں میں داخلے ناکام

ادھر العربیہ ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیرخارجہ ریاض یاسین نے کہا کہ حوثیوں نے گنجان آباد شہروں تعز اور عدن پرحملے کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنا دیا گای ہے۔ اس کے علاوہ حوثی شدت پسند مآرب، البیضاء اور شبوۃ شہر میں داخل ہونے اور لوٹ مار کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں یمنی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ خضرموت گورنری میں حوثیوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ حوثی صرف عدن اور صنعاء کے ہوائی اڈے سمیت بعض حساس مقامات پرقابض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں سیاسی حل کے لیے مشروط طورپر کوششیں جلد شروع ہوں گی تاہم حوثی ملیشیا اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کو تشدد کا راستہ ترک کرناہوگا۔