.

ایران کے ساتھ ڈیل کے قریب تر ہیں: جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کا ملک اور پانچ دوسری بڑی طاقتیں ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر حتمی معاہدے کے قریب تر پہنچ گئے ہیں۔

جان کیری نے یہ بات اقوام متحدہ (نیویارک) میں اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کے ساتھ ملاقات سے قبل جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کی قیام گاہ پر جواد ظریف سے ملاقات کی ہے اور جوہری تنازعے پر حتمی معاہدے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں اسی ماہ کے اوائل میں طویل مذاکرات کے بعد ان کا یہ پہلا بالمشافہ ٹاکرا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار نے کہا ہے کہ ''دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات مفید رہی ہے اور انھوں نے ویانا میں گذشتہ ہفتے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان سیاسی اور فنی ماہرین کے درمیان مذاکرات کا جائزہ لیا ہے۔

جان کیری نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''درحقیقت ہم ایک جامع اور اچھے معاہدے کو طے کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔اگر ہم یہ معاہدہ طے کرلیتے ہیں تو پھر پوری دنیا محفوظ ہوجائے گی''۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کی پاسداری کے حوالے سے ہمیشہ بات چیت ہوتی رہی ہے۔اگر معاہدہ حتمی شکل طے پاجاتا ہے اور اس پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو پھر ایران کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے درکار مواد کے حصول کے تمام راستے مسدود ہو جائیں گے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے نیویارک سے تہران میں سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا، برطانیہ ،فرانس، جرمنی، روس اور چین کے ساتھ مذاکرات میں غیر تصفیہ طلب امور کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''وہ نیویارک میں کانفرنس میں شرکت کرنے کے علاوہ امریکیوں سے ان کی داخلہ پالیسی سے متعلق وضاحتوں کے بارے میں بھی سنیں گے۔ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت عالمی قوانین کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کرنے کی پابند ہے''۔ وہ امریکی کانگریس کے ری پبلکن ارکان کے اس مطالبے کا حوالہ دے رہے تھے جس میں وہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی کانگریس سے توثیق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔