.

حوثیوں نے یو این قرارداد پر عمل نہیں کیا: جمال بن عمر

یمن کی تباہی میں تمام فریق یکساں قصور وار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے سابق خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے کہا ہے ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے یمن میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد 2216 پر کوئی مثبت جواب نہیں دیا جس کے نتیجے میں ملک میں جاری بحران میں مزید اضافہ ہوا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ یمن میں اب بھی حالات ٹھیک نہ ہوئے تو ملک بدترین تباہی سے دوچار ہو گا۔ جمال بن عمر نے یمن میں امن وامان اور سیاسی استحاکم کے لیے سلامتی کونسل میں مزید اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کے سبکدوش مندوب کا کہنا تھا کہ یمن کی تباہی میں کوئی ایک گروپ، جماعت یا شخص نہیں بلکہ سب یکساں قصور وار ہیں۔ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال بن عمرنے دعویٰ کیا کہ ان کی کوششوں سے یمن کے تمام محارب فریق امن فارمولے کے اہم نکات پر متفق ہو گئے تھے۔

جمال بن عمرنے کہا کہ یمن کی موجودہ دگرگوں صورت حال سے القاعدہ کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یمن میں جنگ کے باعث ہونے والی تباہی اور شہریوں کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں کسی ایک فریق کو بھی سیاسی عمل سے علاحدہ کرنا سنگین نتائج پر منتج ہو گا۔ بہتر یہی ہے کہ کسی بیرونی دبائو کے بجائے یمنی گروپوں میں آپس میں مذاکرات کرائے جائیں۔ حوثی بھی یمن کے شہری ہیں انہیں مذاکرات اور سیاسی عمل میں شامل کیا جائے۔