.

سعودی عرب: داعش سے وابستہ 93 مشتبہ جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) سے تعلق کے الزام میں حالیہ مہینوں کے دوران ایک عورت سمیت ترانوے مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ گرفتاریاں دسمبر کے بعد سے عمل میں آئی ہیں اور پکڑے گئے زیادہ تر افراد سعودی شہری ہیں۔سکیورٹی فورسز نے داعش کی جانب سے فوجیوں پر متعدد قاتلانہ حملوں کی سازشوں کو ناکام بنایا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ داعش سے وابستہ ایک جنگجو سیل نے مارچ میں دارالحکومت الریاض میں امریکی سفارت خانے پر خودکش کار بم دھماکے کی سازش تیار کی تھی لیکن اس کو ناکام بنا دیا گیا تھا۔

امریکی سفارت خانے پر خود کش کار بم حملے کی سازش کے الزام میں دو شامیوں اور ایک سعودی کو گرفتار کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ امریکی سفارت خانے نے مارچ میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایک ہفتے کے لیے قونصلر سروس معطل کردی تھی۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ''گرفتار کیے گئے افراد میں سے داعش سے وابستہ پینسٹھ افراد کے گروپ نے رہائشی علاقوں میں بم دھماکوں اور فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ان میں ۔ان میں ایک فلسطینی ،ایک شامی اور دو غیر ریاستی باشندے ہیں''۔

یہ مشتبہ افراد نومبر میں مشرقی صوبے میں شیعہ اقلیت پر حملے کی طرح کے حملوں کی منصوبے بندی کر رہے تھے۔ مشرقی صوبے میں مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے شیعہ اقلیت کے سات ارکان کو ہلاک کردیا تھا۔

وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق پندرہ سعودیوں نے جند بلاد الحرمین کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا تھا۔ اس سیل کی قیادت ایک ماہر بم ساز کر رہا تھا اور وہ سکیورٹی ہیڈ کوارٹرز، فوجیوں اور رہائشی علاقوں میں کاربم حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔