.

ایرانی بحریہ کا امریکی مال بردار جہاز پر قبضہ

جہاز پر آبنائے ہُرمز میں فائرنگ ،بندرعباس کی جانب جانے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی بحریہ نے امریکا کے ایک مال بردار بحری جہاز پر فائرنگ کی ہے اور اس کو جنوبی بندرگاہ بندرعباس کی؛ جانب لے جایا گیا ہے۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق اس جہاز پر چونتیس امریکی سیلرز سوار ہیں۔امریکی محکمہ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی فورسز کے اہلکار خلیج میں مارشل آئیلینڈ کے جھنڈے والے جہاز ایم وی مائرسک ٹائیگرس پر سوار ہوگئے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ خلیج میں موجود ایرانی بحریہ کی گشتی کشتیوں سے پہلے جہاز پر فائرنگ کی گئی تھی اور پھر اس کو ایرانی پانیوں کی جانب جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس جہاز نے اہم تجارتی آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز سے مدد کے لیے خطے میں موجود امریکی فورسز سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد سے امریکی طیارے فضا سے اور ایک آبدوز سمندر میں صورت حال کی نگرانی کررہے ہیں۔

پینٹاگان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جہاز پر کوئی امریکی شہری سوار نہیں ہے اور اس نے قبل ازیں منظرعام پر آنے والی ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ جہاز پر چونتیس امریکی سیلرز سوار ہیں۔

رائیٹرز کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق مائرسک 65 ہزار ٹن وزنی بحری جہاز ہے۔اس پر جب ایرانی فورسز نے قبضہ کیا تو یہ جزیرے قشم اور ہُرمز کے درمیان ایران کی ساحلی حدود میں سفر کررہا تھا۔یہ جہاز سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ سے روانہ ہوا تھا اور اپنی منزل متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ جبل علی کی جانب جا رہا تھا۔

امریکی حکومت کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس جہاز کو پاسداران انقلاب ایران کے بحری دستوں نے گرینچ معیاری وقت کے مطابق نو بج کر پانچ منٹ پر روکا تھا۔ پینٹاگان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جہاز کو آبنائے ہُرمز سے گذرتے ہوئے روکا گیا تھا۔

امریکا کی توانائی اطلاعات انتظامیہ (ای آئی اے) کے مطابق آبنائے ہُرمز سے ایک کروڑ ستر لاکھ بیرل یومیہ تیل بحری جہازوں کے ذریعے گذرتا ہے۔دوسرے الفاظ میں اس آبی راستے سے تیل کی قریباً تیس فی صد تجارت ہوتی ہے۔

ایرانی حکام نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔تاہم ایران ماضی میں متعدد مرتبہ یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس پر عاید اقتصادی پابندیوں میں نرم نہ کی گئی یا یہ پابندیاں مکمل طور پر ختم نہ کی گئیں تو وہ آبنائے ہُرمز کو بند کردے گا اور وہاں سے تیل برداروں جہازوں کی آمد ورفت کو بھی روک دے گا۔

تینتیس کلومیٹر طویل آبنائے ہُرمز خلیج اومان کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور سعودی عرب اسی راستے سے اپنا تجارتی مال اور تیل بحری جہازوں کے ذریعے دنیا کے دوسرے ممالک کو بھیجتا ہے۔