.

حوثیوں نے عدن میں 12 یمنیوں کو ہلاک کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دوسرے بڑے شہر عدن میں حوثی باغیوں نے شہریوں پر ٹینکوں سے گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے طیاروں نے وسطی شہر تعز میں حوثی مخالف جنگجوؤں پر اسلحہ پھینکا ہے۔

عدن میں حوثی باغیوں اور جلا وطن یمنی صدرعبد ربہ منصور ہادی کے وفادار مسلح قبائلیوں کے درمیان گذشتہ ایک ماہ سے خونریز لڑائی ہورہی ہے۔حوثیوں نے بدھ کو شہر کے وسط کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد شاہراہوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

عدن کے علاقے خور مکسر میں حوثی باغیوں اور مقامی قبائلیوں کے درمیان آج صبح سے لڑائی جاری تھی۔شہر کے حکام اور مکینوں نے بتایا ہے کہ حوثیوں نے سرکاری عمارتوں اور رہائشی علاقوں پر گولہ باری کی ہے جس کے بعد وہاں سے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں۔

عدن میں لڑائی کے پیش نظر ایک مکین علی محمد یحییٰ نے ''دنیا ،سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے علاقے کو بچانے کے لیے فوری ؛اقدامات کریں کیونکہ یہ علاقہ بلا امتیاز گولہ باری کی وجہ سے آفت زدہ بن چکا ہے''۔

ادھر عدن سے دو سو کلومیٹر شمال میں واقع شہر تعز میں اتحادی طیاروں نے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے مسلح قبائلیوں اور اسلامی جنگجوؤں پر اسلحہ پھینکا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کے 26 اپریل کے بعد سے مسلسل فضائی حملوں کے باوجود حوثی باغیوں نے اپنے زیر قبضہ علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے اور یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے امن مذاکرات کی بحالی کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔