.

سعودی عرب کے نئے وزیرخارجہ کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے اپنی کابینہ میں غیرمعمولی ردو بدل کیا ہے۔ اپنے تازہ شاہی فرمان کے تحت انہوں نے وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل کو ان کے عہدے سے ہٹا کر امریکا میں متعین سعودی سفیرعادل الجبیر کومُملکت کا نیا وزیر خارجہ مقرر کیا ہے۔ سبکدوش وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے خرابی صحت کی بناء پر اس اہم عہدے پر مزید کام جاری رکھنے سے معذرت کی تھی جس کے بعد انہیں سبکدوش کردیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے نئے وزیرخارجہ عادل الجبیر کی شخصیت پرمختصر روشنی ڈالی ہے۔ الجبر یکم فروری 1962ء کو المجمعہ شہرمیں پیدا ہوئے۔ وہ اس سے قبل امریکا سمیت مختلف ملکوں میں سعودی عرب کے سفیر کی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ مرحوم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے خارجہ امور کے مشیربھی رہ چکے ہیں۔

نومنتخب وزیرخارجہ عادل الجبیر کا خاندان المجمعہ گورنری کے اہم سیاسی خانوادوں میں ہوتا ہے۔ ان کے چچا الشیخ محمد بن ابراہیم بن احمد الجبیر سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے چیئرمین، وزیرانصاف اور شاہی دیوان کے چیئرمین سمیت متعدد دیگر وزارتوں پرفائز رہے ہیں۔

عال الجبیر کے والد احمد محمد الجبیرجرمنی میں سعودی عرب کے ثقافتی اتاشی تھے۔ جرمنی میں قیام کے دوران ہی عادل نے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ ان کے والد حیات ہیں۔ انہوں نے معاشیات میں گریجوایشن امریکا کی نارتھ ٹیکساس یونیورسٹی سےکی جبکہ سیاسیات اور تعلقات عامہ میں ایم اے امریکی یونیورسٹی جارج ٹائون سے کیا۔

اکیس دسمبر2006ء کو امریکی اخبار’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے خبر دی کہ ریاض حکومت شہزادہ ترکی بن فیصل آل سعود کے استعفے کے بعد عادل الجبیر کو امریکا میں نیا سفیر مقرر کرنا چاہتی ہے۔ شہزادہ ترکی نے امریکا میں محض پندرہ ماہ ہی سفارت خدمات انجام دی تھیں۔

امریکا میں بہ سفیر خدمات کے دوران عادل الجبیر پرقاتلانہ حملے کی ایک ایرانی سازش بھی پکڑی گئی جسے ناکام بنا دیا گیا تھا۔ امریکا کی ایک فوج داری عدالت اور نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں اس سازش کی تحقیقات کے لیے مقدمات بھی قائم کیے گئے اور امریکی پولیس نے دو ایرانیوں منصور اربا بسیار اور غلام شکوری کو سازش کے مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔

منصور اربابسیار ایرانی اور امریکی شہریت رکھتا تھا جس نے دوران حراست اعتراف کیا کہ اس نے واشنگٹن میں متعین سعودی سفیر کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس سازش میں ایرانی حکومت کی طرف سے مبینہ طورپر فنڈز فراہم کیے گئے تھے۔