.

سوانحی خاکہ: شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیدائش اور پرورش

۔ شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز25 صٍر 1379ھ بمطابق 30اگست 1959ء کو جدہ میں پیدا ہوئے۔
۔ان کے والد شہزادہ نایف بن عبدالعزی مرحوم سعودی عرب کے وزیرداخلہ اور سابق ولی عہد تھے۔
۔ شہزادہ محمد کی والدہ شہزادی الجوہرہ بنت عبدالعزیز بن مساعد آل سعود کے نام سے مشہور ہیں۔ انہوں‌نے شہزای ریما بنت سلطان بن عبدالعزیز آل سعود سے شادی کی جس سے ان کے دو بیٹیاں شہزادی سارہ اور شہزادی لولو ہیں۔
۔ شہزادہ محمد نے ابتدائی، مڈل اور ہائی اسکول کی تعلیم دارالحکومت ریاض سےحاصل کی۔ گریجویشن کے لیے وہ امریکا چلے گئے جہاں 1981ء میں سیاسیات میں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کی۔
۔ انہوں‌ نے اندرون اور بیرون ملک کئی ایڈوانس ملٹری کورسز بھی کیے جن میں سیکیورٹی امور اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تربیت حاصل کی۔
۔سنہ 1419ھ میں اسپیشل سیکٹرز میں بھی کام کیا۔
۔27 محرم الحرام 1420ھ بمطابق 13 مئی 1999ء کو انہیں شاہی فرمان کے تحت معاون وزیرداخلہ اور سیکیورٹی امور مقرر کیا گیا۔
۔سات رجب 1420 بمطابق 16 اکتوبر1999ٕ ء کو اس وقت کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی منظوری سے شہزادہ محمد بن نایف کو نایب وزیراعظم، نیشنل گارڈز کےچیئرمین اور سپریم انفارمیشن کونسل کا رکن مقرر کیا گیا۔
۔شاہی فرمان کے تحت 27 محرم الحرام 1424ء کو ان کے عہدوں میں مزید چار سال کی توسیع کی گئی۔
۔ چار جمای الاول 1425ء کو شاہی فرمان کے تحت انہیں وزیرکے برابر معاون وزیرداخلہ کا قلم دان سونپا گیا۔ ستمبر2008ء میں اس میں مزید توسیع کی گئی۔
۔ چھ رمضان المبارک 1430ھ بہ مطابق 27 اگست 2009ء‌کو ایک اشتہاری دہشت گرد نے ان پرقاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کی۔
۔ اس سے قبل بھی شہزادہ محمد پر دہشت گردی کے متعدد ناکام حملے ہوچکے تھے۔ ان میں ریاض میں وزارت داخلہ کے ہیڈ کواٹرمیں ہونے والا حملہ اور یمن کے دورے کے دوران دہشت گردانہ حملہ خاص طورپر شامل ہیں۔

مختلف اداروں کی رکنیت اور سرگرمیاں

سعودی عرب کی پارلیمنٹ کی جانب سے انسداد منشیات کمیٹی کے قیام کے بعد سے اب تک شہزادہ محمد بن نایف کمیٹی کے مسلسل رکن چلے آ رہے ہیں۔

۔ شاہی فرمان کے تحت انہیں 28 شوال 1430ء کوانہیں سعودی عرب کی اقتصادی کونسل کا مستقل رکن مقرر کیا گیا۔
۔ سپریم کمیٹی برائے شہزادہ نایف بن عبدالعزیز آل سعودایوارڈ برائے سنت نبوی ومعاصر تحقیقات اسلامی کی رکنیت
۔ شہزادہ محمد بن نایف سابق ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز آل سعود اور اماراتی اعلیٰ حکام کے وفد کی ملاقات میں شرکت کر چکے ہیں۔ یہ ملاقات سات فروری 2010ء کو ابو ظہبی میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں سعودی وزیر دفاع، انسپکٹر جنرل پولیس، سول ایوی ایشن کے وزیر جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ابو ظہبی کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف نے شرکت کی۔
۔ان کے سیاسی کیریئر میں بیرون ملک کئی اہم دورے،عالمی سطح پر سیکیورٹی کی مہمات بھی شامل ہیں۔ انہوں‌نے منشیات اور دہشت گردی کے حوالے سے عالمی سطح کی کئی اعلیٰ سطح کی مجالس میں شرکت کی اور اس حوالے سے مذاکرات میں بھرپور حصہ لے کرانہیں کامیاب بنایا۔
۔انہوں‌نے 17اپریل 2001ء کو اپنے والد مرحوم شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کے ہمراہ ایران کاتاریخی دورہ کیا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان سیکیورٹی تعاون کے کئی سمجھوتوں کی منظوری دی گئی تھی۔
۔شہزادہ محمد نے دہشت گردوں کو راہ راست پرلانے کے لیے اصلاحی مرکز کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ تجربہ پہلے سعودی عرب ہی میں کیا گیا بعد ازاں اسی طرز پردنیا کے 20 ممالک نے ایسے ہی اصلاحی مراکز قائم کئے۔
وزیرداخلہ کی حیثیت سے انہوں‌نے سیکیورٹی فورسز کے ڈھانچے میں اہم نوعیت کی تبدیلیاں کیں، پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادوروں کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ بنیادوں پرتربیت کا اہتمام کیا گیا۔ اس سلسلے میں ان کی درج ذیل خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
۔۔ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے تحقیقات
۔۔اسپیشل فورس کی تشکیل
۔۔ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے پبلک سیکیورٹی
۔۔ ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے شہری دفاع
۔۔ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے پاسپورٹ
۔۔ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے شاہ فہد سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ
۔۔ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے جیل خانہ جات
۔۔قومی مرکز برائے معلومات کا قیام
۔۔ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے انسداد منشیات
۔۔ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے بارڈر فورس
۔۔ انہوں نے اندرون ملک دہشت گردی تنظیموں اور شدت پسندانہ نظریات کے فروغ میںملوث گروپوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے۔
۔۔منشیات کی اسمگلگ کی روک تھام میں ان کی خدمات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے اندرون ملک ہی نہیں بلکہ پورے عرے خطے میں انسداد منشیات کی بڑی بڑی مہمات کی خود نگرانی کی اور انہیں کامیاب بنایا۔

قومی اور عالمی ایوارڈ

شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز آل سعود کو اندرون اور بیرون ملک سے ان کی خدمات کے صلے میں اعلیٰ اعزازات سے بھی نوازا جاتا رہا۔ اس سلسلے میں انہیں حال ہی میں انہیں 1430ھ کو شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے ریاست کا سب سے اعلیٰ ترین اعزاز" شاہ عبدالعزیز" ایوارڈ جاری کیا گیا۔

متفرق سرگرمیاں اور دلچسپیاں

۔ اسٹریٹیجک اور سیاسی موضوعات کےساتھ ساتھ ملٹری سائنس کے موضوعات پر گہری دسترس کے ساتھ مطالعہ کے شوقین۔
۔ صحرا میں ورزش کے عادی
۔ نشانہ بازی، تیر اندازی اور گھوڑ سواری کا شوق
۔ مسلسل پیراکی
۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف فرنٹ لائن پرلڑنے کے لیے پرعزم اور دہشت گردوں‌کو تمام محاذوں پر سنگین چیلنجز سے دوچار کرنے کا شوق رکھنے کے ساتھ شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز انسان دوست رہ نما ہیں۔
۔ انسداد دہشت گردی کے باب میں ان کی خدمات کی وجہ سے عالمی میڈیا میں ان کی شہرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ msnbc نیوز نیٹ ورک نے انہیں "دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جرنیل" کا خطاب دیا۔