.

شہزادہ مقرن کا بطور ولی عہد استعفی منظور: شاہی فرمان

شہزادہ نایف، ولی عہد جبکہ محمد بن سلمان نائب ولی عہد مقرر کر دیئے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے شہزادہ مقرن کو ولی عہد کے عہدے سے سبکدوش کرتے ہوئے ان کی جگہ اپنے بھتیجے شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز کو ولی عہد اور اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کیا ہے۔ شہزادہ محمد اس وقت سعودی وزیر دفاع کا فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔

یاد رہے کہ شہزادہ محمد بن نایف وزیر دفاع کے مشیر تھے جس کے بعد انہیں ترقی دیکر وزیر داخلہ اور نائب ولی عہد مقرر کیا گیا تھا۔ سعودی کابینہ میں وہ دہشت گردی کے خلاف پرعزم جنگ لڑنے والے نمایاں وزراء میں شامل تھے۔

شاہی فرمان کے مطابق سعودی فرمانروا نے وزیر خارجہ سعود الفیصل کو بھی وزارت خارجہ کے منصب سے ہٹا کر ان کی جگہ امریکا میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر کو وزیر خارجہ مقرر کیا ہے۔ نیز شہزادہ منصور بن مقرن کو شاہی دیوان کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا عہدہ وزیر کے برابر ہو گا۔

سعودی شاہ نے وزیر محنت عادل فقیہ کو ان کے عہدے سے ہٹا کر مفرج الحقبانی کو وزیر محنت مقرر کیا ہے۔ عادل فقیہ کو وزیر مالیات اور منصوبہ بندی کا نیا قلمدان دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے محمد الجاسر وزیر مالیات و منصوبہ بندی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، جنہیں اب اس عہدے سے الگ کر دیا گیا ہے۔ خالد الفالح کو آرامکو کی مجلس انتظامی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے ان کے پاس وزیر صحت کا اضافی چارج بھی ہو گا۔

ایک الگ شاہی فرمان کے تحت سیکیورٹی اور فوجی اہلکاروں کو ایک ماہ کی اضافی تنخواہ بطور بونس دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے حمد بن عبدالعزیز السویلم کو شاہی دیوان کا صدر مقرر کیا ہے۔