.

یمنی انٹلیجنس چیف حوثیوں سے مںحرف، جرمنی پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے ایک باخبر ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ پولیٹیکل سیکیورٹی انٹیلی جنس چیف بریگییئر جنرل حمود خالد الصوفی حوثی شدت پسندوں سے مںحرف ہونے کے بعد جرمنی پہنچ گئے ہیں۔

ترک خبر رساں اداروں کے مطابق صنعاء کے ایک مصدقہ حکومتی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ بریگیڈئر الصوفی حوثیوں سے علاحدگی کے بعد بیرون ملک چلے گئے تھے جہاں وہ رواں ہفتے کے دوران جرمنی پہنچ چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق منحرف انٹیلی جنس چیف بریگیڈئر حمود الصوفی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے مقرب خاص سمجھے جاتے تھے۔ سنہ 2011ء میں علی صالح کےدور صدارت میں انہیں وسطی یمن کی تعز کا گورنر بھی بنایا گیا تھا۔

پچھلے سال 23 نومبرکو صدر عبد ربہ منصور ھادی نے ایک صدارتی فرمان کے تحت بریگیڈیئر الصوفی کوصنعاء میں پولیٹیکل انٹیلی جنس جنس ادارے کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ بعد ازاں ستمبر میں حوثی شدت پسندوں نے صنعاء پرقبضہ کرلیا تھا۔

پچپن سالہ الصوفی کا تعلق تعز گورنری سے ہے، وہ اس شہر کے پہلے شخص ہیں جنہیں انٹیلی جنس کے عہدے کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ ان سے قبل یہ عہدہ بریگیڈیئر جلا الرویشان کے پاس تھا جو وزیراعظم خالد بحاح کی حکومت میں وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔