.

یمن کے قبائلی جنگجو سعودی فورسز کے زیر تربیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے پانچ صوبوں میں حوثی شیعہ باغیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔جنوبی شہر عدن میں حوثی باغیوں اور مقامی قبائلیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے جبکہ سعودی عرب نے حوثی باغیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلح قبائلیوں کو عسکری تربیت دینا شروع کردی ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب کی فورسز نے یمن کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں قریباً تین سو قبائلی جنگجوؤں کو تربیت دی ہے اور انھیں وسطی صوبے مآرب کے ضلع سیرواہ میں ان کے آبائی علاقے میں اسی ہفتے دوبارہ تعینات کیا گیا ہے جہاں انھوں نے حوثیوں کے مقابلے لڑائی میں پیش قدمی کی ہے۔

دوحہ سے تعلق رکھنے والے ایک فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ ''آپ فضا سے حوثیوں کے مقابلے میں جنگ کبھی بھی نہیں جیت سکتے۔آپ کو برسرزمین فوج بھیجنے کی ضرورت ہے۔اب سرحدی علاقے میں قبائلی جنگجوؤں کو تربیت دینے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے''۔

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی بمباری کے باوجود میدان جنگ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی ہے اور امن مذاکرات کی فوری بحالی کے بظاہر کوئی آثار نظر آرہے ہیں اور نہ اس جانب کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے حملوں کے بعد سے تین لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔جزیرہ نما عرب میں واقع یمن پہلے ہی غربت کا شکار تھا اور اس وقت ملک کی کل آبادی میں سے ایک کروڑ بیس لاکھ افراد کو غذائی بحران کا سامنا ہے جس کے پیش نظر بعض ماہرین نے وہاں انسانی المیہ رونما ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منگل کو ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران یمن میں لڑائی اور فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار دو سو چوالیس افراد ہلاک اور پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔