.

امریکا کا ایران سے یمن مذاکرات میں مدد دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران سے یمن بحران کے سیاسی حل کے لیے متحارب فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی غرض سے مدد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے یہ مطالبہ گذشتہ سوموار کو نیویارک میں اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کے ساتھ ملاقات میں کیا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے ایران سے کہا تھا کہ وہ تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

دوسری جانب ایران نے کسی غیر جانبدار مقام پر یمن بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی تجویز پیش کی ہے اور افغانستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بارے میں بات چیت بھی جرمنی میں 2001ء میں کامیابی سے ہم کنار ہوئی تھی۔

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے نیویارک یونیورسٹی میں بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یمن کے تمام فریقوں کو کسی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کرنے چاہئیں لیکن میں متحدہ عرب امارات میں ان مذاکرات کے انعقاد میں یقین نہیں رکھتا ہوں''۔

متحدہ عرب امارات سعودی عرب کی قیادت میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف اتحاد کا حصہ ہے۔اس عرب اتحاد کے لڑاکا طیارے 26 مارچ سے یمن میں حوثیوں اور ان کے اتحادی جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے کررہے ہیں۔ایرانی وزیرخارجہ نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یو اے ای بدقستمی سے تنازعے کا حصہ بن گیا ہے۔

جواد ظریف کا کہنا تھا کہ''یمن میں ہرکسی کو ان مذاکرات کا حصہ بننا چاہیے اور ان کے نتیجے میں ایک وسیع البنیاد حکومت قائم کی جانی چاہیے جس کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار ہوں۔یہ تمام عمل یمن ہی کا ملکیتی ہونا چاہیے اور ہم اس کے لیے سہولت کار ہوسکتے ہیں''۔

انھوں نے 2001ء میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بون کانفرنس کا حوالہ دیا اور اس کے نتیجے میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے حملوں کے نتیجے میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایک افغان حکومت قائم ہوئی تھی۔ایران نے اس کانفرنس میں حصہ لیا تھا اور نئی افغان حکومت کے قیام کے ضمن میں امریکا کے ساتھ تعاون کیا تھا۔

ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو اس طرح کی بات چیت کا بہت تجربہ حاصل ہے۔یمن میں بھی اسی طرح کا معاملہ کیا جانا چاہیے۔ہم ان سے بات کررہے ہیں اور میرے خیال میں ایسا ہی ہوگا۔انھوں نے یمن کی صورت حال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انسانی المیہ رونما ہونے کا اندیشہ ہے۔

درایں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری حرف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جان کیری اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی نے یمن کی صورت حال پر بات چیت کی ہے اور تنازعے کے حل کے لیے تمام یمنیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا نے ہمیشہ ایران کے لیے کھلے پن کا مظاہرہ کیا ہے اور جہاں وہ کردار ادا کرسکتا ہے تو اس سے بات کی ہے''۔واضح رہے کہ ایران یمن میں حوثی باغیوں کی پشتی بانی کررہا ہے اور اس کی حمایت کی بدولت ہی وہ دارالحکومت صنعا میں گذشتہ سال ستمبر میں قبضے میں کامیاب ہوئے تھے۔حوثی باغیوں کی یمن کے جنوبی علاقوں کی جانب چڑھائی کے بعد امریکا کے اتحادی سعودی عرب اور دوسرے خلیجی عرب ممالک نے ان پر فضائی حملے شروع کردیے تھے۔