.

سعود الفیصل کی سبکدوشی ایک مشکل فیصلہ تھا:شاہ سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک کیبل میں کہا ہے کہ وزیرخارجہ شہزادہ سعود الفیصل کو ان کی درخواست پر سبکدوش کرنا ایک مشکل فیصلہ تھا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق شاہ سلمان نے سابق وزیرخارجہ کو بھیجی گئی ایک کیبل میں کہا ہے کہ انھوں نے شہزادہ سعود کی بار بار درخواست کے بعد انھیں جواب دیا ہے اور ان کے اصرار پر وزارت خارجہ کا قلم دان ان سے واپس لیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ''شہزادہ سعود ان کے قریب رہیں گے''۔انھوں نے بطور وزیرخارجہ محنت اور لگن سے فرائض انجام دینے پر انھیں خراج تحسین پیش کیا ہے اور ان کی درخواست میں دین ،مذہب اور مادر وطن سے ان کی مخلصانہ وفاداری کا اچھے الفاظ میں ذکر کیا ہے۔

سعودی فرمانروا نے اسی ہفتے حکومتی عہدوں اور کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد وبدل کیا ہے اور وزیرخارجہ سعود الفیصل کو ان کی درخواست پر سبکدوش کردیا ہے۔ان کی جگہ امریکا میں متعین سعودی سفیر عادل الجبیر کو نیا وزیرخارجہ مقرر کیا گیا ہے۔

شہزادہ سعود الفیصل نے خرابیِ صحت کی بنا پر بطور وزیرخارجہ مزید خدمات انجام دینے سے معذوری ظاہر کی تھی۔یادرہے کہ انھیں 1975ء میں سعودی عرب کا وزیرخارجہ مقرر کیا گیا تھا اور وہ مسلسل چالیس سال تک اس عہدے پر فائز رہے ہیں۔وہ دنیا میں کسی بھی ملک کے سب سے طویل عرصہ خدمات انجام دینے والے وزیرخارجہ ہیں۔

انھوں نے بطور سعودی وزیرخارجہ تین مرتبہ 1978ء ،1982، اور 2006ء میں اسرائیلی فوج کی لبنان پر جارحیت ،1987ء اور 2000ء میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انتفاضہ تحریکوں ،1980ء کے عشرے میں عراق ،ایران جنگ اور 1990ء میں عراق کی کویت پر چڑھائی اور 2003ء میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی عراق پر چڑھائی اور اس پر قبضے، پھر 2011ء میں عرب ممالک میں بہاریہ تحریکوں کے نام سے اتھل پتھل کو ملاحظہ کیا ہے۔اس دوران انھوں نے عمدہ سفارت کاری کی اور مختلف عالمی فورموں پر اپنے ملک کے موقف کو احسن طریقے سے اجاگر کیا۔