.

شامی باغیوں کی تربیت کے لیے امریکی فوجیوں کی ترکی آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک سو تئیس فوجی شام کے اعتدال پسند باغیوں کی تربیت کے لیے ترکی پہنچ گئے ہیں۔وہ اپنے ساتھ امریکی ساختہ ہتھیار بھی لائے ہیں جن کے ذریعے شامی باغیوں کو تربیت دی جائے گی۔

ترک روزنامے حریت نے اپنی جمعہ کی اشاعت میں بتایا ہے کہ امریکی فوجیوں کے ہتھیاروں کو جنوبی صوبے عدنہ میں واقع انچرلیک ائیربیس پر منتقل کیا جارہا ہے۔ اس ائیربیس پر تراسی امریکی فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا اور چالیس فوجیوں کو وسطی صوبے اناطولیہ میں واقع حرفانلی بیس منتقل کردیا گیا ہے۔

اخبار نے ایک بے نامی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حرفانلی میں تربیت پانے والے فوجیوں کو جنوبی صوبے حاتے میں منتقل کیا جائے گا جہاں انھیں ہتھیاروں کے استعمال ،ٹینک شکن ہتھیاروں ،انفینٹری رائفلوں اور مشین گنوں کو چلانے کے بارے میں بتایا جائے گا۔اس فوجی تربیت کے بعد انھیں واپس شام بھیج دیا جائے گا جہاں وہ سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف لڑائی میں حصہ لیں گے۔

انچرلیک ائیربیس میں امریکی اہلکاروں کا ایک خصوصی گروپ شامی باغیوں کو تربیت دے رہا ہے۔واضح رہے کہ انچرلیک ائیربیس اس وقت امریکی فوج ہی کے زیر استعمال ہے۔ترکی نے مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد اس ائیربیس کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ترکی عراق اور شام میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کی داعش کے خلاف کارروائیوں میں شرکت سے گریزاں رہا ہے۔

امریکا نے چند ہفتے قبل ہی شامی حزب اختلاف کے قریباً بارہ سو جنگجوؤں کو فوجی تربیت کے لیے مکمل چھان بین کے بعد نامزد کیا تھا۔ انھیں داعش کے خلاف لڑنے کے لیے پینٹاگان کے وضع کردہ پروگرام کے تحت جدید اسلحہ چلانے کے علاوہ جنگی حربوں کی تربیت دی جائے گی۔اس پروگرام کے تحت ایک سال میں پانچ ہزار سے زیادہ شامی جنگجوؤں کو تربیت دی جائے گی۔ان میں سے قریباً تین ہزار کو 2015ء کے اختتام تک تربیت یافتہ بنایا جاسکتا ہے۔

پینٹاگان کے مطابق خصوصی دستوں سمیت چار سو سے زیادہ امریکی فوجی شامی جنگجوؤں کو تربیت دیں گے اور ان کی معاونت کے لیے مزید سیکڑوں فوجی بھیجے جائیں گے۔اس تربیتی مشن میں حصہ لینے والے تمام فوجیوں کی تعداد قریباً ایک ہزار ہو گی۔