.

نیپال زلزلے میں ایک ہزار یورپی باشندے لاپتہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیپالی اور غیر ملکی حکام گزشتہ ہفتے کے دوران آںیوالے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے ہزاروں افراد کی تلاش کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق زلزلے کے بعد یورپی ممالک کے 1000 شہری نیپال میں لاپتہ ہوچکے ہیں۔

نیپال میں یورپی یونین کے وفد کے سربراہ رینسج تیرینک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا "ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں یا کہاں ہوسکتے ہیں۔" حکام کے مطابق لاپتہ افراد کو ڈھونڈنا مشکل ہے کیوںکہ ان میں سے بہت سے لوگ اپنے سفارتخانوں سے رابطے میں نہیں رہتے ہیں۔

مگر نیپال کی وزارت داخلہ نے اس امر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ یورپی یونین کے اتنے زیادہ شہری لاپتہ ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان لکشمی پرساد ڈھاکل کا کہنا تھا "اگر ایسی بات تھی تو سفارتخانوں نے ہمیں آگاہ کیوں نہ کیا؟ انہوں نے اب تک نیپالی حکومت سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔

اطلاعات کے مطابق فرانس، اٹلی اور اسپین کے 221 شہری لاپتہ ہیں جبکہ دیگر ممالک ابھی اپنے اعداد وشمار کا حساب کتاب لگا رہے ہیں۔

پچھلے ہفتے کو آںیوالے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 6250 افراد ہلاک جبکہ 14357 زخمی ہوچکے ہیں۔

ابھی تک لاپتہ افراد کی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا ہے جبکہ مسمار عمارتوں کے ملبے میں سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دارالحکومت کھٹمنڈو میں کئی غیر شناخت شدہ لاشوں کو فوری طور پر جلا دیا گیا کیوںکہ مردہ خانوں میں جگہ باقی نہیں رہی تھی۔

مقامی حکام کے مطابق غیر شناخت شدہ لاشوں میں سے کئی ہمسایہ ملک بھارت سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کی بھی ہوسکتی ہیں جو کہ ہمالیائی ملک میں روزی کمانے کے لئے آئے ہوئے تھے۔

ملک کے دور دراز علاقوں میں امداد پہنچانے کا سلسلہ انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امداد کی تقسیم کا کام ڈرائیوروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہے۔

نیپال فوڈ کارپوریشن کے مینیجر شریمانی راج خانال کا کہنا تھا "ہمارے اناج کے ذخیرے بھرے پڑے ہیں اور ہمارے پاس کھانے پینے کی وافر مقدار موجود ہے مگر ہم تیز رفتار سے امداد پہنچانے کے قابل نہیں ہیں۔"

اقوام متحدہ کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں چھ لاکھ گھروں کو نقصان یا تباہ ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق دو کروڑ 80 لاکھ کی آبادی والے ملک کی 80 لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور ان میں سے کم ازکم 20 لاکھ افراد کو اگلے تین ماہ کے لئے ٹینٹوں، پانی، کھانے اور طبی امداد کی ضرورت ہے۔