.

استنبول : محنت کشوں کے عالمی دن پر پُرتشدد مظاہرے

تقسیم چوک کی جانب جانے والی شاہراہیں بند،مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں یکم مئی کو محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔پولیس نے ریلیوں کے شرکاء کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا ہے۔

حکام نے استنبول کے مشہور تقسیم اسکوائر میں ریلیوں کے انعقاد کو روکنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔مقامی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق تقسیم چوک میں دس ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

پولیس اہلکاروں نے تقسیم چوک کی جانب جانے والی تمام شاہراہوں کو کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کردیا ہے اور چوک کو مکمل طور پر بلاک کردیا ہے تاکہ مظاہرین اس جانب رُخ نہ کر سکیں لیکن حکومت مخالفین نے ان پابندیوں اور رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے تقسیم چوک کی جانب جانے کی کوشش کی ہے۔شہری حکام نے استنبول میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی بند کردیا ہے اور سڑکوں پر اکا دُکا گاڑیاں نظر آرہی تھیں۔

استنبول میں آبنائے باسفورس کے کنارے پرچم بردار سیکڑوں افراد ریلیاں نکالنے کے لیے جمع ہوئے ہیں لیکن انھیں پولیس اہلکاروں نے تقسیم چوک کی جانب بڑھنے نہیں دیا اور پیچھے دھکیل دیا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2013ء میں آج کے دن بائیں بازو کی تنظیموں نے یوم مئی کے موقع پر ریلیاں نکالی تھیں اور اس دوران تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جس کے بعد شہر میں کئی روز تک صورت حال کشیدہ رہی تھی اور حکومت مخالفین احتجاجی مظاہرے کرتے رہے تھے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن مطلق العنان حکمران بن چکے ہیں اور وہ ملک میں شہری آزادیوں پر مسلسل قدغنیں لگارہے ہیں۔حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان محمد طنال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ'' لوگ اپنے مسائل کو بیان کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت نہیں چاہتی کہ آیندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل ان مسائل کو سنا جائے''۔

استنبول کے مشہور کاروباری مرکز استقلال ایونیو میں بھی آج ہو کا عالم تھا اور بیشتر دکانیں اور کاروباری مراکز بند تھے جبکہ پولیس شاہراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کررہی تھی۔ فضا میں پولیس کے ہیلی کاپٹر بھی پروازیں کررہے تھے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پُرامن طریقے سے آنے والوں کے لیے تو تقسیم چوک کو کھول دیا جائے گا لیکن غیر قانونی مظاہرین کو اس جانب جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قبل ازیں صدر رجب طیب ایردوآن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''میری خواہش ہے یکم مئی کو میلے کے موڈ میں کسی اشتعال انگیزی کے بغیر منایا جائے''۔

ادھر دارالحکومت انقرہ اور دوسرے شہروں میں مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر ریلیاں نکالی جارہی ہیں اور وہاں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔