.

حوثیوں کا اقوام متحدہ سے فضائی حملے بند کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی شیعہ باغیوں نے اقوام متحدہ سے اپنے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور انھیں اپنے ملک کے خلاف ننگی جارحیت قراردیا ہے۔

حوثی تحریک کے خارجہ تعلقات کے ذمے دار حسین العزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ''سعودی عرب کے ہمارے ملک اور عوام کے خلاف حملوں کے نتیجے میں صورت حال سنگین ہوچکی ہے''۔

خط میں سیکریٹری جنرل سے کہا گیا ہے کہ ''ہم اپنے عوام کے خلاف سعودی جارحیت کو ختم کرانے کے لیے آپ کے فعال انسانی کردار کے منتظر ہیں''۔ خط میں اتحادی طیاروں کی بمباری میں تباہ ہونے والے بہت سے علاقوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد سے لڑائی میں چھے سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں،بائیس سو زخمی ہوگئے ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوچکے ہیں۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں صنعا پر قبضے کے بعد ملک کے منتخب صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کو چلتا کیا تھا اور جنوبی شہر عدن کی جانب بھی چڑھائی کردی تھی۔ان کے ایک منتخب حکومت کے خلاف جارحانہ اقدامات کے بعد ہی سعودی عرب نے صدر منصور ہادی کی درخواست پر یمن میں حوثیوں اور ان کے اتحادیوں پر 26 مارچ کو فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔

سعودی عرب کو یقین ہے کہ حوثی باغی اس کے علاقائی حریف ایران کے گماشتہ جنگجو گروپ کا کردار ادا کررہے ہیں اور ایران اس ملک میں بزور طاقت اپنی حمایت یافتہ حکومت بنوانا چاہتا ہے لیکن دوسری جانب یمن کے جنوبی صوبوں کی اکثریتی سنی آبادی ان خدشات کا اظہار کررہی ہے کہ ملک مکمل طور پر فرقہ وارانہ بنیاد پر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

ایران یمن کے داخلی امور میں کس حد تک دخیل ہے،اس کا اندازہ اس کے نائب وزیرخارجہ کے اس بیان سے کیا جاسکتا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''تہران علاقائی قوتوں کو یمن میں اپنے سکیورٹی مفادات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا''۔

امریکا نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں فضائی مہم کی حمایت کی ہے۔ایک امریکی عہدے دار نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے:''واضح رہے کہ حوثیوں اور سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے یمن میں یک طرفہ اقدامات کے نتیجے میں انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔حوثیوں اور صالح کی وفادار فورسز نے ملک میں سیاسی انتقال اقتدار کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ 2014ء کے وسط کے بعد سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اضافہ کرتے چلے جارہے ہیں''۔