.

’تیونس میں اسرائیلی شہریوں کو سنجیدہ دھمکیوں کا سامنا‘

تل ابیب کا شہریوں کو تیونس کے سفر سے گریز کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ تیونس میں مقیم اسرائیلی شہریوں اور یہودی باشندوں کو ’’سنجیدہ دھمکیوں‘‘ اور حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے زیرانتظام شعبہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے جاری ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ تیونس میں اسرائیلی شہریوں کوسنگین خطرات لاحق ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ خفیہ اداروں کو ایسی اطلاعات ملی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تیونس میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں یہودیوں اور اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ دھمکیاں معمولی نہیں بلکہ سنجیدہ ہیں جن سے صرف ںظر نہیں کیا جاسکتا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تیونس کے جنوب مشرق کے جزیرہ جربہ میں واقع یہودیوں کے قدیم مذہبی مرکز میں رواں ماہ چھ اور سات تاریخ کو ہونے والے ’مذہبی اجتماع‘ کے دوران دہشت گردی کی کارروائیاں کی جاسکتی ہیں۔

ان ہی دھمکیوں کے تناظرمیں اسرائیلی حکومت نے شہریوں کو تیونس کے سفرسے گریز کی ہدایت کی ہے۔

خیال رہے کہ 11 اپریل 2002ء میں مراکش میں یہودیوں کے مذہبی مرکز میں ایک خودکش بمبار نے خود کو اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں 14 جرمن سیاح، پانچ تیونس اور تیونسی شہری شامل تھے۔ القاعدہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

پچھلے سال بھی 18 مارچ تیونس کے دارالحکومت میں یہودی میوزیم ’’بارود‘‘ میں ایک بم حملے میں اکیس سیاح اور ایک تیونسی پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری مغرب اسلامی میں القاعدہ سے وابستہ عقبہ بن نافع بریگیڈ نامی گروپ نے قبول کی تھی۔

اسی نوعیت کا ایک بڑا حملہ تیرہ سال قبل بھی تیونس میں یہودیوں کے مذہبی مرکزپرکیا گیا تھا۔ جس میں یہودی معبد کو نشانہ بنایا گیا۔

تیونس میں یہودی آبادی کی تعداد کچھ زیادہ نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تیونس میں کل یہودی آبادی 1500 نفوس پر مشتمل ہے۔ ان میں سے اکثریت مذہبی اہمیت کے حامل جزیرہ جربہ میں مقیم ہیں۔

تیونس کی فرانس سے سنہ 1956ء میں آزادی کے وقت ملک میں ایک لاکھ سے زیادہ یہودی آباد تھے،جو بعد ازاں یورپی ملکوں اور اسرائیل چلے گئے تھے۔