.

اسرائیلی پولیس گردی، ایتھوپیئن یہودی سراپا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی کا شکار صرف فلسطینی باشندے ہی نہیں بلکہ اسرائیل میں موجود بعض نسلوں کے یہودی بھی وحشت وبربریت کا سامنا کررہے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صہیونی فوج، پولیس کی منظم غنڈہ گردی اورصہیونی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف تل ابیب میں ایتھوپیائی باشندوں نے بھی سخت احتجاج کیا ہے۔

تل ابیب میں ایتھوپیائی باشندوں کا احتجاج تین روز قبل بیت المقدس میں منظرعام پر آنے والی ایک فوٹیج کے بعد کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو فوٹیج میں ایک صہیونی پولیس اہلکار کو ایتھوپیائی نسل کے فوجی اہلکار کی پٹائی کرتے دکھایا گیا ہے۔

تل ابیب میں پولیس گردی کے خلاف ایتھوپیائی باشندوں کے احتجاجی مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے ہم نسل فوجی پر تشدد کے مرتکب پولیس اہلکار کو جیل بھجوانے کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین کاکہنا تھا کہ اسرائیل کے آئینی باشندے ہونے کے باوجود ان کے ساتھ امتیازی سلوک روارکھا جاتا ہے۔

قبل ازیں بیت المقدس میں ایتھوپیئن باشندوں اور اسرائیلی پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئی تھیں جن میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ایک احتجاجی ایدی ماکونین نے ’’اے ایف پی‘‘ کو بتایا کہ میں سیاہ فام ہوں اس لیے آج احتجاج پر مجبور ہوا ہوں۔ میں اور دیگر سیاہ فام نسل کے لوگ صہیونی پولیس گردی کا سامنا کررہے ہیں، لیکن یہ تشدد اس معاشرے کے خلاف ہے جس کی ہم حمایت اور مدد کررہے ہیں‘‘۔

ماکونین کا کہنا تھا کہ میں اپنے ملک [ایتھوپیا] سے آیا تو میری عمرصرف تین سال تھی، اب 34 سال ہے۔ میں نے اپنی پوری عمر میں سیاہ فاموں اور دوسری نسل کے لوگوں کے ساتھ اسرائیل میں نسلی امتیاز کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ ہمارا پہلا مطالبہ ہی یہ ہے کہ ہمارے ساتھ امتیازی سلوک ختم کیا جائے۔ ریاست میں ہمیں بھی برابر کے شہری کے حقوق دیے جائیں اور ہماری سماجی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں صرف پولیس کی غنڈہ گردی کی بات نہیں کرتا۔ یہاں اسرائیلی ریاست کے تمام ادارے ہم سے ناانصافی کررہے ہیں۔ ایتھوپیائی باشندوں کے ساتھ بدسلوکی کی مثالیں روز مرہ کا معمول بن چکی ہیں۔

ایتھوپیائی فوجی پر پولیس اہلکار کے تشدد کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کا ایک بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مضروب فوجی داماس باکادا سے ملاقات کے ساتھ ساتھ ایتھوپیائی شہریوں کے نمائندوں سے ملاقات کرکے انہیں اعتماد میں لیں گے۔

خیال رہے کہ ایتھوپیا سے سنہ 1984ء اور 1991ء کے دوران ایک لاکھ 35 ہزار یہودی اسرائیل منتقل ہوئے تھے، تاہم سیاہ فام ہونے کی بناء پر وہ اسرائیلی معاشرے میں مدغم نہیں ہوسکے بلکہ مسلسل نسلی امتیاز کا سامنا کررہے ہیں۔