.

سعودی اتحاد کا یمن میں فضائی حملے روکنے پر غور

مخصوص علاقوں میں امدادی سامان پہنچانے کے لیے فضائی مہم روک دی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد یمن میں حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف فضائی حملے روکنے پر غور کررہا ہے تاکہ خانہ جنگی کا شکار ملک میں متاثرہ افراد کو انسانی امداد مہیا کی جاسکے۔

العربیہ نیوز چینل نے سعودی عرب کے نئے وزیرخارجہ عادل الجبیر کا یہ بیان نشر کیا ہے جس میں انھوں نے حوثیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملک میں جنگ بندی کے وقفے کو اپنے حق میں استعمال کرنے سے گریز کریں۔

انھوں نے بیان میں کہا ہے کہ ''سعودی عرب یمن میں قانونی حکومت کے دفاع کے لیے اتحاد میں شامل ارکان اور اس کی حمایت کرنے والے ممالک سے مشاورت کررہا ہے تاکہ یمن میں انسانی امدادی سامان مہیا کرنے کے لیے مخصوص علاقے نشان زد کیے جا سکیں۔ان علاقوں پر مخصوص وقت میں فضائی حملے بند کردیے جائیں گے''۔

انھوں نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 کا بھی حوالہ دیا ہے۔اس قرارداد کے تحت یمن میں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں کو اسلحہ مہیا کرنے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔اس کے علاوہ ان سے مطالبہ کیا گیا ہے صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ تمام علاقوں کو خالی کردیں۔

عادل الجبیر نے بیان میں مزید کہا ہے کہ سعودی عرب انسانی امدادی سامان مہیا کرنے کے لیے ملک میں ایک مرکز بھی قائم کرسکتا ہے جہاں سے ان امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنایا جائے گا۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ یمن میں فضائی حملوں کے بعد سے انسانی صورت حال ابتر ہوچکی ہے۔