.

امریکی وزیرخارجہ کا پہلا دورۂ صومالیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے منگل کو صومالیہ کا غیرعلانیہ دورہ کیا ہے۔وہ خانہ جنگی کا شکار اس افریقی ملک کا دورہ کرنے والے پہلے اعلیٰ امریکی عہدے دار ہیں اور ان کی آمد کا مقصد القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپوں کے خلاف جنگ آزما حکومت کی حمایت ہے۔

جان کیری کا دارالحکومت موغادیشو کے ہوائی اڈے پر پہنچنے پر صومالی صدر حسن شیخ محمود اور وزیراعظم نے خیرمقدم کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔اس کے بعد انھوں نے ان دونوں رہ نماؤں سے ملاقات کی۔ امریکی وزیرخارجہ کے دورے کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔صومالی حکومت کو صرف ایک روز قبل ہی ان کی آمد کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

ان کی صومالی لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے ایجنڈے میں الشباب کے خلاف جنگ سرفہرست ہے۔افریقی فورسز کی صومالیہ میں الشباب کے خلاف زمینی کارروائیوں اور امریکی ڈرون حملوں کے بعد اس کی قیادت تتر بتر ہوچکی ہے اور اس کے جنگجو اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقوں کو خالی کرچکے ہیں۔

صومالیہ میں اپنے خلاف کارروائیوں کے بعد الشباب کے جنگجو اب پڑوسی ممالک میں بھی پھیل چکے ہیں اور انھوں نے کینیا اور دوسرے ممالک میں کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔گذشتہ ماہ الشباب کے جنگجوؤں نے کینیا میں گریسا یونیورسٹی کالج پر حملہ کرکے ایک سو اڑتالیس افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ان میں زیادہ تر طلبہ تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان میری حرف نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جان کیری کے دورے کا مقصد صومالیہ میں ایک پُرامن جمہوریت کے قیام کے لیے جاری عمل کی حمایت ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''وہ سکیورٹی کے شعبے میں تعاون اور صومالیہ کے اصلاحات اور ترقی کے لیے اقدامات پر پیش رفت سے متعلق بھی بات چیت کرنے والے ہیں۔وہ سول سوسائٹی کے لیڈروں سے بھی ملاقات کریں گے اور ان سے این جی او کے شعبے کی اہمیت کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔وہ صومالیہ میں استحکام کے لیے کردار پر افریقی یونین کے فوجیوں کا شکریہ بھی ادا کریں گے''۔