.

یمن میں انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے رابطہ مرکز کا قیام

شاہ سلمان کی اقوام متحدہ کو یمن میں امدادی کاموں میں شرکت کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یمن میں انسانی امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے لیے ایک مرکز کے قیام کا اعلان کیا ہے اور اقوام متحدہ کو خانہ جنگی کا شکار ملک میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

انھوں نے یہ اعلان منگل کو دارالحکومت الریاض میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہ اجلاس سے افتتاحی خطاب میں کیا ہے۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا:'' ہمیں امید ہے کہ اقوام متحدہ فعال انداز میں اس مرکز کی سرگرمیوں میں حصہ لے گی۔اس کے تحت یمنی عوام کے لیے انسانی امدادی سرگرمیاں انجام پائیں گے اور اس میں خلیجی اقدام کی حمایت کرنے والے تمام ممالک حصہ لیں گے''۔

انھوں نے جی سی سی کے قیام اور اس کو فعال بنانے میں مرحوم شاہ عبداللہ کے کردار کا تذکرہ کیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔ یمن میں فوجی مداخلت کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ''یمن اور اس کے اداروں کو تباہی سے بچانے کے لیے یہ اقدام ضروری ہو گیا تھا''۔

شاہ سلمان نے کہا کہ یمن میں باغی لیڈروں نے ملک میں جاری طوائف الملوکی کے خاتمے کے لیے جی سی سی کے اقدام کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر ممکن طریقے سے یمن کی حمایت جاری رکھیں گے۔سعودی فرمانروا نے اپنے خطاب میں فلسطینی کاز اور اس کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا ہے کہ یہ عرب دنیا کی اولین ترجیح ہے۔

شاہ سلمان کی تقریر کے بعد فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے غیرملکی مہمان سربراہ ریاست کی حیثیت سے جی سی سی کے اجلاس سے خطاب کیا۔انھوں نے فرانس کی جانب سے کونسل کے رکن ممالک کو حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ انھیں جن خطرات کا سامنا ہے،پیرس کو بھی اسی قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''فرانس شام میں صورت حال کی تبدیلی کے لیے اعتدال پسند حزب اختلاف کی مدد کی غرض سے کام کررہا ہے''۔

جی سی سی کے اس سربراہ اجلاس کے شرکاء یمن میں جاری بحران کے علاوہ رکن ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کے فروغ ،شام اور عراق کی صورت حال اور خطے کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی عرب ممالک یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف 26 مارچ سے فضائی حملے کررہے ہیں۔تنظیم کا ایک رکن ملک اومان اس فضائی مہم میں شریک نہیں ہے۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن میں متاثرہ افراد تک انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے فضائی حملوں میں وقفہ کیا جاسکتا ہے۔تاہم انھوں نے حوثی باغیوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس عارضی جنگ بندی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں۔