.

داعش نے ٹیکساس میں حملے کی ذمے داری قبول کر لی

جنگجو گروپ کا امریکی سرزمین پر پہلا حملہ، مزید کارروائیوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں بر؛سرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے ٹیکساس میں اختتام ہفتہ پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی نمائش کے موقع پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔امریکی سرزمین پر داعش کا یہ پہلا حملہ ہے۔

داعش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''خلافت کے دو فوجیوں نے گارلینڈ، ٹیکساس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین آمیز منفی تصاویر کی نمائش کے موقع پر حملہ کیا تھا۔ہم امریکا سے یہ کہنا چاہتے ہیں ،مستقبل میں جو کچھ ہونے والا ہے ،وہ اس سے بھی خطرناک اور سخت ہوگا اور آپ دولت اسلامیہ کے فوجیوں کو خطرناک کام کرتے ہوئے دیکھیں گے''۔

امریکی پولیس کے مطابق اتوار کے روز گاڑی میں سوار دو مسلح افراد گارلینڈ ٹیکساس میں کانفرنس سنڑ کی جانب آئے تھے اور انھوں نے ایک سکیورٹی گارڈ پر فائرنگ شروع کردی تھی۔اس وقت دائیں بازو کے گروپ امریکی فریڈم ڈیفنس کے زیر انتظام کارٹونوں کا متنازعہ مقابلہ جاری تھا۔

گارلینڈ پولیس کے افسروں نے بعد میں ان دونوں افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق یہ دونوں مشتبہ جہادی تھے اور ایک کا نا؛م ایلٹن سمپسن تھا۔اس کی عمر اکتیس سال تھی۔دوسرے کا نام نادر صوفی تھا۔اس کی عمر چونتیس سال تھی۔دونوں فونیکس ایریزونا میں ایک اپارٹمنٹ میں اکٹھے رہتے تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکا کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی سمپسن کے جہاد میں حصہ لینے کے لیے صومالیہ کے سفر کی تحقیقات کررہا تھا۔امریکی حکام اب ان دونوں کے داعش سے تعلق کی تحقیقات کررہے ہیں۔

اخباری اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکساس میں فائرنگ کے اس واقعے سے قبل ٹویٹر پر''شریعت روشنی ہے'' کے نام سے اکاؤنٹ پر ''ٹیکساس حملہ'' کے عنوان سے ایک ہیش ٹیگ استعمال کیا گیا تھا اور اس میں داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی بیعت کا اعلان کیا گیا تھا۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد داعش کے ایک اور مبینہ اکاؤنٹ سے یہ ٹویٹ کیا گیا تھا:''وہ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ ٹیکساس میں دولت اسلامیہ کے فوجیوں سے محفوظ ہیں''۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خاکے بنانے کے مقابلے کے موقع پر فائرنگ کی گئی تھی اور وہاں منافرت پھیلانے والے ایک گروپ ''امریکی آزادی دفاعی اقدام'' کے تحت پیغمبراسلام کے اہانت آمیز خاکے بنانے کا مقابلہ منعقد کیا جارہا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا اور دوسرے مغربی ممالک میں انتہا پسند گروپ آئے دن آزادی اظہار رائے کے نام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام کی توہین کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ماضی میں فرانس ،ڈنمارک ،سویڈن اور جرمنی میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبارات اور جرائد کے دفاتر پر حملے ہو چکے ہیں اور بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی جرائد کی ناپاک جسارتوں کی وجہ سے ہی جنگجو گروپوں یا ان سے وابستہ افراد کو ان پر حملوں کے لیے تحریک ملتی ہے۔