ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر میں بھارت کی دلچسپی!

ہندوستان، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کا خواہاں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت وسطی ایشیائی اور خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھانے کے لیے ایران میں ایک بندرگاہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسی سلسلے میں بھارت، افغانستان میں 220 کلومیٹر طویل ہائے وے بھی مکمل کر چکا ہے۔

بھارت اور ایران کے مابین 2003ء میں چاہ بہار کے مقام پر ایک بندرگاہ بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔ چاہ بہار کا علاقہ خلیج عمان میں پاکستانی سرحد کے قریب واقع ہے۔ تاہم مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے اس منصوبے پر بہت کم ہی کام کیا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ بھارت اس ہفتے جنوب مشرقی ایران میں اس بندرگاہ کی تعمیر کے اپنے منصوبے کو مزید آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یاد رہے چین کے پاکستان کے ساتھ 46 ارب ڈالر کے معاہدوں کے بعد بھارت بھی ایران اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کی کوششوں کو تیز کرنا چاہتا ہے۔

بھارتی وزارت برائے پورٹ اور شپنگ کے ایک ذریعے نے رائیٹرز کو بتایا کہ متعلقہ وزیر نتن گڈکاری جلد ہی ایران کا ایک روزہ دورہ کریں گے، جس کے دوران دونوں ممالک کے مابین مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ رائیٹرز کے مطابق بدھ [آج] کو معاہدے پر دستخط کر دیے جائیں گے۔

ایران اور مغربی ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کے بعد بھارت نے اپنا ایک وفد تہران بھیجا تھا، جس کا مقصد تجارت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے نئے امکانات تلاش کرنا اور معاہدے کرنا تھا۔ بھارت چاہ بہار بندرگاہ تک رسائی کے لیے افغانستان میں 220 کلومیٹر طویل ہائے وے بھی تعمیر کر چکا ہے۔ مغربی افغانستان میں تعمیر کی جانے والی اس سڑک پر سو ملین ڈالر سے زیادہ کے اخراجات آئے ہیں۔

امریکا نے گرشتہ ہفتے ہی بھارت سمیت دیگر ممالک کو حتمی جوہری معاہدہ طے ہونے تک ایران کے ساتھ روابط بڑھانے سے خبردار کیا ہے۔ تاہم نئی دہلی حکام کے مطابق بھارتی مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس بیان میں توانائی کے شعبے کے ایک امریکی وفد کے ایران کے دورے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

بھارتی وزارت تجارت کے حکام نے بتایا کہ ایران نے نئی دہلی کے ساتھ آزاد تجارت کے ایک معاہدے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ بھارت گزشتہ دو برسوں میں ایران کو چار ارب ڈالر تک کی اشیاء برآمد کر چکا ہے۔ بھارت ٹرانسپورٹ پر آنے والے اخراجات میں کمی اور وقت کی بچت کے لیے یہ بندرگاہ بنانا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں