جوہری مذاکرات میں فوجی دھمکیوں کی گنجائش نہیں:خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو تہران آیندہ جوہری مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔

انھوں نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پریس ٹی وی سے بدھ کو نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''دھمکیوں کے سائے میں بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری بات چیت کا انعقاد ایران کے لیے ناقابل قبول ہے۔ہماری قوم اس کو قبول نہیں کرے گی اور فوجی دھمکیوں سے مذاکرات میں کوئی مدد بھی نہیں ملے گی''۔

خامنہ ای نے اپنے اس بیان میں یہ انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں دو امریکی عہدے داروں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی لیکن انھوں نے اس دھمکی کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔البتہ انھوں نے یہ سوال کیا کہ ''دھمکی کے سائے میں مذاکرات کا کیا مطلب ہے؟''

انھوں نے چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں کو ملک کی ''سُرخ لکیروں'' کا احترام کرنا چاہیے اور انھیں ان کا احترام کرتے ہوئے بات چیت جاری رکھنی چاہیے اور انھیں کسی دھونس، دھاندلی اور جبر کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان 2 اپریل کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں طویل مذاکرات کے بعد فریم ورک سمجھوتا طے پایا تھا۔اب وہ 30 جون کی ڈیڈلائن سے قبل حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔طرفین کے درمیان بات چیت کا حالیہ دور منگل کے روز ہی نیویارک میں ختم ہوا ہے اور اب ان میں مذاکرات کا نیا دور آیندہ ہفتے ویانا میں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں