.

امریکا کی جانب سے یمن جنگ بندی کی سعودی تجویز کا خیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سعودی عرب کی جانب سے یمن میں جاری لڑائی میں انسانی بنیادوں پر پانچ دن کی جنگ بندی کی تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ بندی میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے۔

جان کیری نے سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض میں سعودی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ کانفرنس میں بات کرتے ہوئے خطے کی سلامتی کو ایران کی جانب سے درپیش خطرات پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

سعودی عرب اور امریکا دونوں ہی نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کی پشت پناہی کررہا۔ حوثی باغیوں نے یمن کے قانونی صدر عبد ربو منصور ہادی کو اقتدار سے باہر نکالنے کی مسلح کوشش کی تھی۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ پانچ دن کی مجوزہ جنگ بندی کا دار ومدار حوثیوں کی جانب سے لڑائی روکنے پر منحصر ہے۔

الجبیر نے بتایا کہ انہوں نے امریکی ہم منصب سلطنت سعودی عرب کی جانب سے پانچ دن کی جنگ بندی کے تجویز سے آگاہ کیا ہے تاکہ بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے یمن میں امداد بھیجی جاسکے۔

الجبیر کے مطابق جنگ بندی کی تاریخ کا جلد ہی تعین کر لیا جائے گا اور یہ جنگ بندی کا اطلاق پورے یمن میں کیا جائیگا یا کہیں بھی نہیں کیا جائیگا۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ انہیں اس شرط پر اتفاق ہے کہ حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کی پابندی کی جائے۔

"امریکا یمن میں زمینی صورتحال کے بارے میں شدید تحفظات رکھا ہے اور ہم یمن میں امداد کی بلا تعطل فراہمی کی تمام کوششوں کی حمایت کریں گے۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب یمن میں زمینی افواج اتارنے کے حوالے سے بات نہیں کررہے ہیں۔