.

شام میں محفوظ زون کا قیام مشکل ہے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیردفاع ایش کارٹر نے واضح کیا ہے کہ شام میں انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک محفوظ زون کا قیام بہت مشکل ہوگا کیونکہ امریکا کو وہاں بیک وقت جہادیوں اور دمشق رجیم سے لڑنے کے لیے ایک بڑا جنگی مشن درکار ہوگا۔

ترکی ایک عرصے سے شام کے سرحدی علاقے میں انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے ایک محفوظ زون کے قیام پر اصرار کرتا چلا آرہا ہے لیکن امریکا نے اس کی اس تجویز پر عمل درآمد کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا ہے۔

امریکی وزیردفاع ایش کارٹر نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے شام میں بفر زون کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور درپیش چیلنجز کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ''اس ضمن میں پڑوسی ممالک کی حکومتیں بھی ممکنہ طور پر کوئی تعاون کرنے کو تیار نہیں ہوں گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''پہلے تو ہمیں ایسی جگہ کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے لڑنا ہوگا اور اس کے بعد اس کو برقرار رکھنے کے لیے جنگ آزما ہونا پڑے گا۔اس لیے یہ ایک مشکل مشن ہے''۔

امریکی سینیٹ کے چار ارکان نے حال ہی میں صدر براک اوباما کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان پر شام میں ایک محفوظ علاقے کے قیام زوردیا ہے۔ان میں سے ایک سینیٹر ڈک ڈربن نے وزیردفاع سے کمیٹی میں سماعت کے دوران یہ سوال پوچھا تھا کہ ان کے نزدیک اس کے کیا آپشن ہوسکتے ہیں۔

ڈربن نے کہا کہ ''اگرچہ یہ قانونی اصطلاع میں نسل کشی تو نہ ہو لیکن یہ ہمارے وقت کا ایک بڑا بحران ہے جس کا کوئی انجام نظر نہیں آرہا ہے''۔ان کا اشارہ شام میں جاری خانہ جنگی میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی جانب تھا۔

وزیردفاع ایش کارٹر نے کہا کہ ''شام میں اس طرح کے محفوظ زون کی ایک جانب تو سخت گیر دولت اسلامیہ (داعش) اور دوسرے انتہا پسند گروپ مخالفت کرسکتے ہیں اور دوسری جانب شامی حکومت کے تحت فورسز بھی ان کی مخالفت کرسکتی ہیں۔اس کی عملیت پسند بڑی اہم ہوگی''۔

امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے سینیٹ کی اس کمیٹی کے روبرو اپنے بیان میں کہا کہ امریکی کمانڈروں نے اپنے ترک ہم منصبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد شام میں ایک محفوظ زون کے قیام کے لیے مجوزہ منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

انھوں نے امریکی وزیردفاع کے برعکس دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز شام میں ایک بفر زون قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن یہ ایک بڑا سیاسی فیصلہ ہوگا اور اس کا یہ مطلب ہوگا کہ اس بفر زون میں تعینات کیے جانے والے فوجی کسی اور مشن کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ ''اس کو عملی اور موثر بنانے کے لیے علاقائی شراکت داروں کو بھی شریک کرنے کی ضرورت ہوگی''۔