.

کینیڈا پولیس کی جانب سے باحجاب خاتون کو ملازمت کی دعوت

امریکی پولیس نے اسمھان کو دوران ٹریننگ حجاب اوڑھنے سے روک دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کی ایڈمونٹن پولیس سروس نے امریکا میں مقیم مسلمان خاتون کو حجاب پہننے کی وجہ سے پولیس میں ملازمت نہ ملنے پر کینیڈا میں ملازمت کی دعوت دی ہے۔

ایک مقامی کینیڈین اخبار کے مطابق ایڈمونٹن پولیس میں بھرتی کے ذمہ دار سٹاف سارجنٹ مارک فارنیل کو انٹرنیٹ پر صومالی نژاد امریکی خاتون اسمھان عیسیٰ کی داستان پڑھنے کو ملی تو انہوں نے ان سے رابطہ کیا۔

فارنیل کے مطابق ایڈمونٹن پولیس نے مسلمان خواتین کے لئے ایک ایسا یونیفارم تیار کیا ہے جس میں حجاب شامل ہے اور انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 29 سالہ اسمھان کو پولیس سروس میں شامل ہونے کا موقع دیں گے۔

فارنیل کا کہنا ہے "وہ بہت شدت سے پولیس میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ تو کیوں نہ انہیں موقع دیا جائے کہ وہ کینیڈا آئیں اور اس موقع کا فائدہ اٹھائیں۔ وہ ہمارے لئے بہت صلاحیت یافتہ امیدوار ہیں۔"

فارنیل کے مطابق اگر اسمھان نے رضامندی دکھائی تو انہیں پہلے کینیڈا کی شہریت حاصل کرنی ہوگی اور اس ملازمت کی وجہ سے ایسا بہت آسان ہوجائیگا۔"

اسمھان عیسٰی کا کہنا ہے کہ میں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کررہی ہوں۔

اس سے پہلے امریکی ریاست اوہائیو میں انہیں بتایا گیا کہ وہ ٹریننگ کے دوران اپنا حجاب نہیں پہن سکیں گی۔