.

ایران نے مائرسک گروپ کا مال بردار جہاز چھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ڈنمارک کے ملکیتی مال بردار بحری جہاز مائرسک ٹائیگرس کو چھوڑ دیا ہے۔ایرانی بحریہ نے گذشتہ ماہ مارشل آئلینڈ کے جھنڈے والے اس بحری جہاز کو آبنائے ہُرمز سے گذرتے ہوئے پکڑ لیا تھا۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے پورٹس اور میری ٹائم محکمے کے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ مائرسک جہاز اب ایران سے جاسکتا ہے۔ ڈنمارک کی جہاز راں کمپنی نے ایران میں اپنے جہاز اور عملے کو چھوڑے جانے کی تصدیق کردی ہے۔

ایرانی بحریہ کی کشتیوں نے 28 اپریل کو اس جہاز کا رُخ موڑ لیا تھا اور اس کو بندرعباس پر لے جایا گیا تھا۔ایران نے تب کہا تھا کہ اس جہاز کی چارٹر کمپنی مائرسک لائن کے ساتھ ایک سال پرانا قرضے کا کیس حل ہونے کے بعد ہی اب اس کو چھوڑا جائے گا۔

ریکمرس گروپ نے ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ ایرانی حکام نے اس کے زیر انتظام جہاز مائرسک ٹائیگرس کو عملے کے چوبیس ارکان سمیت سرکاری طور پر رہا کردیا ہے۔انھوں نے یہ اقدام بندرعباس کی ایک عدالت کے حکم کے بعد کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عملے کے تمام چوبیس ارکان محفوظ ہیں اور ان کی صحت بہتر ہے۔ان کے خاندانوں کو ان کی بازیابی کی اطلاع کردی گئی ہے۔قبل ازیں ایران کے سرکاری ٹی وی نے بتایا تھا کہ عملے کے ارکان کا تعلق میانمر ،بلغاریہ ،رومانیہ اور برطانیہ سے ہے۔

ایران اور مائرسک گروپ کے درمیان چھتیس لاکھ ڈالرز کی ادائی کا تنازعہ چلا آ رہا تھا۔ایران کی ایک عدالت نے مائرسک گروپ کو ایرانی فرم پارس آئیل پراڈکٹس تلیح کو طے شدہ معاہدے کے تحت ایک جہاز کے ذریعے مال نہ پہنچانے پر یہ رقم ادا کرنے کا حکم دیا تھا اور آج جمعرات کو بندرعباس کی عدالت میں مائرسک گروپ کی جانب سے زرضمانت جمع کرائے جانے کے بعد اس کے جہاز کو چھوڑا گیا ہے۔