.

’عراق وشام پر بالادستی کی خاطر ایران داعش سے نہیں لڑے گا‘

عرب اتحاد نے یمن پر قبضے کے ایرانی خواب خاک میں ملا دیے:مریم رجوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ولایت فقیہ کی مخالف خاتون رہ نما مریم رجوی نے کہا ہے کہ تہران سرکار کو عراق اور شام میں اپنی سیاسی بالادستی کی فکر ہے۔ ایران کبھی بھی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ کے خلاف جنگ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ داعش کےخلاف جنگ میں ایران کو مغرب کا اتحادی قرار دینا بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ایران اہل سنت مسلک کے لوگوں کی نسل کشی تو کررہا ہے مگر وہ داعش کے خلاف جنگ کبھی نہیں کرے گا کیونکہ داعش کے خلاف جنگ کے نتیجے میں عراق اور شام میں ایران کے اتحادی کمزور ہوسکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مریم رجوی نے فرانسیسی پارلیمنٹ میں’’اسلامی انتہا پسندی کے مشرق وسطیٰ سے یورپ تک پھیلے خطرات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عرب اتحاد نے یمن میں ایرانی ملائیت کے جابرانہ نظام کے مسلط کیے جانے کی سازش ناکام بنا دی۔ ان کا اشارہ یمن میں حوثی شدت پسندوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی آپریشن کی جانب تھا۔

مریم رجوی کا کہنا تھا کہ عراق اور شام میں انتہا پسندوں کی سرکوبی اور عراق کے سنی قبائل کو داعش کے خلاف لڑائی کے لیے مسلح کیے جانے کا امکان موجود ہے۔ اسی طرح شام میں صدر بشار الاسد سے قوم کو نجات دلانے کے لیے اعتدال پسند مزاحمتی قوتوں کی بھی مالی اور فوجی مدد کی ضرورت ہے تاکہ جلد ازجلد ایرانی کٹھ پتلیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔

ایرانی اپوزیشن خاتون رہ نما نے کہا کہ ’’میں نے 29 اپریل کو امریکی کانگریس کے ایک اجلاس سے خطاب میں بھی یہی بات کہی تھی اور آج پھر کہہ رہی ہوں ایرانی رجیم کی طرح اسلامی انتہا پسندوں نے بھی خطے پر اپنی اجارہ داری قائم کرلی ہے۔ ایران اور انتہا پسندوں کا تسلط ایک ساتھ جاری ہے اور دونوں ایک ساتھ ہی زوال پذیر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا یہ دعویٰ قطعی بے بنیاد اور کھوکھلا ہے کہ ایران ہی خطے کی واحد بڑی طاقت ہے۔ ایران میں صرف جبر اور ظلم کی حکومت ہے۔ ولی القفیہ[سپریم لیڈر] کی اصل طاقت دوسرے ملکوں میں جارحیت کرنا اور جوہری نم تیار کرنا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایران کا مصنوعی طاقت کا گھمنڈ جلد بے نقاب ہوگیا اور ملائیت کے نظام کو شکست ہوگی کیونکہ موجودہ صدر حسن روحانی کے دوسالہ دو اقتدار میں 1500 بے گناہ افراد کو پھانسیوں پر لٹکایا گیا ہے۔

کانفرنس میں فرانسیسی سینیٹر اور ’’جمہوری کمیٹی برائے ایران‘‘ کے چیئرمین آلن نرے، سینیٹر برنارڈ فورنیہ، سابق الجزائری وزیراعظم احدم غزالی، شمی اپوزیشن رہ نما نذیر حکیم سمیت کئی دوسرے اہم سیاسی رہ نمائوں نے بھی خطاب کیا۔

مریم رجوی نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق آٹھ نکات پر مشتمل ایک تجزیاتی مقالہ بھی پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف آیت اللہ علی خامنہ ای جوہری ہتھیاروں کو حرام قرار دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف خطے میں تہران کی بالادستی کی خاطر ایٹم بم اور ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس باب میں آیت اللہ خامنہ ای بانی انقلاب آیت اللہ خمینی کی ہدایت پر چل رہے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ ولی الفقیہ چاہے توعوام الناس کے ساتھ کیے گئے شرعی معاہدوں کو بھی توڑ سکتا ہے۔

دوم: ایران کا جوہری پروگرام پوری قوم کی منشاء ہرگز نہیں ہے۔ ایرانیوں کی اکثریت جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے خلاف ہے۔ ہم ایران میں جمہوریت چاہتے ہیں اور ایک ایسا ملک جو ہرطرح کے جوہری ہتھیاروں سے مکمل طورپر پاک وصاف ہو۔

سوم:ایران میں جوہری ہتھیاروں کا حصول، انسانی حقوق کی پامالیاں، دہشت گردی کی دوسرے ملکوں میں برآمد اور انتہا پسندی موجودہ ملائی نظام کے چار بنیادی ستون ہیں۔ یہی وہ چار طریقے سے جن سے ایران میں ملائیت کے نظام کو قائم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی رجیم عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔

چہارم: ایران نے پچھلے تین عشروں تک اپنی جوہری سرگرمیوں کو دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رکھا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ ایران کو مزید آپشنز دینے کے بجائے تہران کو یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے سلامتی کونسل کے ذریعے کارروائی کی جانی چاہیے۔ تاکہ ایرانی ملائوں کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کےحصول سے روکا جاسکے۔

پنجم: عالمی توانائی ایجنسی کے معائنہ کار کسی بھی وقت اور ایران میں کہیں بھی تلاشی لینے کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ ایرانی رجیم کی عسکریت پسندانہ سوچ کو بے نقاب کیا جاسکے۔

ششم: ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی روک تھام کے لیے ملائوں کی حکومت کے خلاف عالمی پابندیاں عاید کی جائیں۔ ایران پرعاید اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے کا کوئی جواز نہیں۔ عالمی برادری کو ایران پر مزید پابندیاں عاید کرنی چاہیں۔ انہوں نے روس کی جانب سے ایران کو اسلحہ اور طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کے حامل میزائلوں کی فروخت کی بھی شدید مذمت کی۔

آخری نقطے میں مریم رجوی کا کہنا ہے کہ پچھلے 36 سال کی عوامی مزاحمت اور سیاسی جدو جہد سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ایرانی ملائوں کی حکومت صرف طاقت کی زبان جانتی ہے۔ یہ لوگ نہ مفاہمت کے قائل ہیں اور نہ ہی صلح کے قابل ہیں۔ انہوں نے ایران کو انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مرکز بنا دیا ہے۔ ظالمانہ نظام حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے کو بھی قابل گردن زدنی جرم قرار دیا جاتا ہے۔