.

سعودی اتحاد کی حوثیوں کے مضبوط گڑھ صعدہ پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے جمعرات کی شب حوثیوں کے مضبوط گڑھ یمن کے شمالی شہر صعدہ پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔

اس تازہ بمباری سے قبل سعودی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے خبردار کیا تھا کہ یمنی ملیشیا سرخ لکیر عبور کرچکی ہے اور اب ان کے ساتھ مختلف انداز سے نمٹا جائے گا۔

یمن کے سکیورٹی حکام کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے صعدہ میں متعدد مقامات پر بمباری کی ہے اور دارالحکومت صنعا سے مغرب میں واقع شہر حدیدہ میں بھی حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اتحادی طیاروں نے عدن پر بھی پروازیں کی تھیں لیکن وہاں کوئی حملہ نہیں کیا۔

ادھر سعودی دارالحکومت الریاض میں وزیردفاع محمد بن سلمان کی سربراہی میں رات مسلح افواج کے کمانڈروں کا اجلاس ہوا جس میں یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری آپریشن اور ان کی جانب سے سعودی عرب کے سرحدی علاقوں پر گولہ باری سے پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر احمد العسیری نے اپنی معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ سعودی عرب کے شہروں اور شہریوں پر حملوں کے بعد اب فارمولا تبدیل کردیا گیا ہے،جنھوں نے اس جارحیت کی منصوبہ بندی کی اور اس کو عملی جامہ پہنایا ہے،انھیں اب اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

درایں اثناء سعودی عرب کے ملکیتی نشریاتی اداروں نے سعودی فوج کی صعدہ میں رہنے والے یمنیوں کے لیے بار بار انتباہ نشر کیے ہیں اور انھیں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ حوثیوں کی فوجی تنصیبات اور ہیڈکوارٹرز سے دور رہیں۔

حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے جمعرات کو عدن کے ایک اہم علاقے میں اپنے جنگجوؤں کو موجود دکھایا تھا اور یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی محل پر ان کا قبضہ ہو چکا ہے۔

صعدہ میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر اس نئی بمباری سے قبل سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے یمن میں امدادی سامان مہیا کرنے کے لیے پانچ روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی لیکن ساتھ انھوں نے کہا تھا کہ حوثیوں کو اس کی پاسداری کرنا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس عارضی جنگ بندی کی تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔