.

'سعودی عرب میں حملوں کی بھاری قیمت چکانا ہوگی'

حوثیوں کے ٹھکانوں پر24 گھنٹے لگا تار حملے کریں گے: جنرل عسیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے یمن میں حوثی شدت پسندوں کی جانب سے جازان اور نجران شہروں میں راکٹ حملوں کا بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت دفاع کے مشیر اور آپریشن’’فیصلہ کن طوفان‘‘ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے کہا ہے کہ حوثی دہشت گردوں کو سعودی عرب میں حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اُدھر سعودی وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیزکی زیرصدارت عسکری قیادت کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا ہے جس میں سعودی عرب کے اندر کیے گئے راکٹ حملوں اور یمن میں جاری آپریشن پرغور کیا گیا۔

جنرل عسیری نے ریاض میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے جازان اور نجران پر راکٹ حملے کرکے سعودی عرب کی سلامتی کی سرخ لکیرعبور کی ہے۔ اب اسے اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی شہروں پر حملوں میں حصہ لینے والوں اور اس کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل عسیری کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور یمن کی سرحد پر ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کو فنی خرابی کے باعث اتاراگیا ہے۔انہوں نے یمنی شہروں پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے مراکز سے دور رہیں کیونکہ اگلے چوبیس گھنٹے صعدہ گورنری میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بغیر کسی وقفے کے گولہ باری جاری رہے گی۔