.

یمن میں پانچ روزہ جنگ بندی منگل سے شروع ہوگی: الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ یمن میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی بحالی کی خاطرپانچ روزہ عارضی جنگ بندی آئندہ منگل سے شروع ہوگی۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرخارجہ نے پیرس میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ عارضی جنگ بندی کی کامیابی حوثیوں اور علی صالح کے وفاداروں کی جانب سے شرائط پرعمل درآمد پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یمن میں پانچ دن کی جنگ بندی کے دوران امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے جان کیری سے بھی بات چیت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیش آئند کیمپ ڈیوڈ سربراہ کانفرنس میں بھی امریکا اور سعودی عرب کے درمیان سیکیورٹی تعاون کا فروغ اور ایران کا جوہری پروگرام زیر بحث لایا جائے گا۔

اس موقع پرامریکی وزیرخارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ ’’جنگ بندی کا مطلب امن کا قیام ہرگز نہیں ہے۔ مستقل جنگ روکے لیے فریقین کو مذاکرات کی میز پرآنا ہوگا۔ محض جنگ بندی سیاسی مذاکرات کا متبادل نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حوثی بھی سعودی عرب کی جانب سے جنگ بندی کی پیش کش کا مثبت جواب دیں گے۔ حوثیوں پراثرانداز ہونے والے ملکوں کے ساتھ بھی رابطہ کیا جائے گا تاکہ جنگ بندی کو نتیجہ خیزبنایا جاسکے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر سمجھوتے سے خطے کے ممالک کو درپیش خطرات کم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور خلیجی ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ ہرشعبے میں مفادات وابستہ ہیں۔ انہوں نے سعودی وزیرخارجہ کے اس بیان کی تائید کی کہ کیمپ ڈیوڈ سربراہ کانفرنس میں ایران کے جوہری پروگرام اور ایران کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات کو بھی زیربحث لایا جائے گا۔