.

بطور صدر میں بھی عراق حملے کی اجازت دے دیتا: برادر بش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار جیب بش کا کہنا ہے کہ اگر وہ ٰ2003 میں صاحب اقتدار ہوتے تو وہ بھی عراق میں امریکی حملے کی اجازت دے دیتے مگر اس موقع پر انہوں نے عراق میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد کی جانیوالی غلطیوں کا بھی اعتراف کیا.

سابق امریکی صدرجارج بش سینیئر کے بیٹے اور جارج واکر بش کے بھائی جیب بش نے نشاندہی کی کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے بھی عراق میں فوجی مداخلت کے حق میں ووٹ دیا تھا.

جیب بش نے امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو بتایا "میں عراق میں مداخلت کی اجازت دے دیتا اور سب کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ہیلری کلنٹن بھی ایسا ہی کرتیں. اور کوئی بھی صاحب اقتدار شخص جسے ایسی معلومات ملتی تو وہ بھی ایسا ہی فیصلہ کرتا."

بش نے اس موقع پر سلامتی امور سے متعلق کمزور امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے عراقی اپنی فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہیں.

مگر انہوں نے اس بات کی بھی تردید کردی کہ سیکیورٹی ہی ان کے بھائی جارج واکر بش کے ساتھ ان کے تنازعے کی بڑی وجہ ہے.

جیب بش کا کہنا تھا "ویسے آپ کے خیال میں کون یہ سوچتا ہے کہ یہ پالیسی غلط ہے. جارج ڈبلیو بش."

"جی ہاں. میرے خیال میں یہ بات مجھ میں اور میرے بھائی کے درمیان اختلافات تلاش کرنے والے افراد کے لئے یہ ایک انہونی خبر ہوگی اور میرا اور میرے بھائی کا اس موضوع پر کوئی اختلاف نہیں ہے.

امریکی ریاست فلوریڈا کے گورنر رہنے والے جیب بش نے ابھی تک اپنی امیدواریت کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے.

جیب بش نے امیگریشن پر بات کرتے ہوئے کہا "ہمیں سسٹم کو ایسا بنانا ہوگا کہ جب قانونی امیگریشن غیر قانونی امیگریشن سے زیادہ آسان ہوجائے اور لوگوں کو کچھ عزت دی جاسکے.

بش کو صدارتی انتخابات جیتنے کے لئے لاطینی باشندوں کی حمایت جیتنا لازمی ہوگی. امریکا میں 2012 کے صدارتی الیکشنز میں تقریبا 1 کروڑ 10 لاکھ افراد نے ووٹ ڈالا جو کہ مکمل ووٹروں کی تعداد کا تقریبا 8.8 فیصد ہے.