.

داعش کی شوریٰ کا قائم مقام خلیفہ کے انتخاب پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قابض سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے زخمی خلیفہ ابو بکر البغدادی کو مبینہ طور پر انتہائی سخت سکیورٹی میں موصل سے شامی شہر الرقہ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

داعش کے خلیفہ دوماہ قبل ایک فضائی حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ان کی ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچا تھا اور بائیں ٹانگ ناکارہ ہوچکی ہے۔مارچ میں برطانوی میڈیا نے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کے ایک فضائی حملے میں ابو بکر بغدادی کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔

لیکن امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی اور پینٹاگان کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے ڈیلی بیسٹ کو بتایا ہے کہ ''ہمارے پاس یہ یقین کرنے کے لیے ایسا کوئی جواز موجود نہیں کہ یہ بغدادی ہی تھے''۔

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل سے نو ڈاکٹروں پر مشتمل ایک گروپ کو بھی ابو بکر بغدادی کے ساتھ الرقہ منتقل کیا گیا ہے۔داعش کے کمانڈروں نےانھیں موصل سے شامی شہر بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ ان کے نزدیک الرقہ موصل کی نسبت زیادہ محفوظ ہے جبکہ عراقی فورسز اسی موسم گرما میں اس شہر دوبارہ قبضے کے لیے ایک بڑے حملے کی بھی تیاری کررہی ہیں۔

قائم مقام لیڈر

داعش کے خلیفہ کے بارے میں یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ وہ شدید زخمی ہونے کے باوجود ذہنی طور پر ہوشیار ہیں اور احکامات جاری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کے زخمی ہونے کے پیش نظر جماعت کی شوریٰ کونسل نے ان کے قائم مقام رہ نما کا انتخاب کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔

ڈیلی بیسٹ کے مطابق یہ نیا قائم مقام لیڈر خلیفہ ابو بکر بغدادی کا نائب ہوگا۔وہ عراق اور شام کے درمیان آتا جاتا رہے گا اور داعش کی خلافت کے روزمرہ امور کو چلائے گا۔

توقع ہے کہ داعش کی شوریٰ کونسل اسی ہفتے اس نائب الخلیفہ کے نام کا اعلان کردے گی۔اب تک جو نام سامنے آئے ہیں،ان میں موصل سے تعلق رکھنے والے ابو علی الانباری کا نام سب سے نمایاں ہے۔وہ عراقی فوج کے سابق میجر جنرل ہیں۔ان کے علاوہ طبیعیات کے سابق استاد ابو العلا الاعفری اور داعش کے موجودہ گورنر الرقہ ابو لقمان بھی ممکنہ طور پر خلیفہ کے جانشین اور قائم مقام بن سکتے ہیں۔