.

سعودی عرب کے لڑاکا دستے یمنی سرحد پر تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی لڑاکا فورس یمن کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں پہنچ گئی ہے۔

سعودی عرب نے سرحدی علاقے میں حوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ دنوں میں شہری علاقوں پر گولہ باری کے بعد لڑاکا فورس تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔حوثی باغیوں کی سرکوبی کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملے بھی جاری ہیں۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اتوار کو ایک تقریر میں کہا تھا کہ یمن میں ایک فرقہ پرست گروپ کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے ان فضائی حملوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ان کے بہ قول یہ فرقہ پرست گروہ اور اس کے اتحادی خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

درایں اثناء یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے پہلی مرتبہ کھلے بندوں حوثی باغیوں کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔وہ بھی حوثیوں کی طرح زیدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔گذشتہ روز سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت صنعا میں ان کے مکان پر فضائی حملہ کیا تھا۔

اس حملے کے بعد انھوں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''میں انصاراللہ (حوثیوں) کا اتحادی نہیں تھا لیکن آج سے میں یہ اعلان کررہا ہوں کہ یمنی ہر اس شخص کی حمایت کریں گے جو قوم کے وسائل کا دفاع کرے گا''۔