.

ترکی :کرپشن کی تحقیقات کرنے والے پراسیکیوٹرز ،جج برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے اعلیٰ عدالتی ادارے نے حکمراں جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کے عہدے داروں کے خلاف بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے والے چار پراسیکیوٹرز اور ایک جج کو برطرف کردیا ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق ججز اور پراسیکیوٹرز کے سپریم پورڈ نے چار پراسیکیوٹروں زکریا اوز ،جلال کارا ،معمر عکاس اور محمد یزجیچ اور ایک جج سلیمان کراچول کو کام سے روک دیا ہے۔

اناطولیہ نے مزید کہا ہے کہ بورڈ نے ان پانچوں کو اپنے پیشے کے وقار کو داغ دار کرنے اور سرکاری مناصب کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں عہدوں سے ہٹایا ہے۔زکریا اوز نے اس حکم کے اجراء کے فوری بعد ٹویٹر پر اس کی مذمت کردی ہے اور اس کو کالعدم قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بورڈ نے حکام بالا کے احکامات پر عمل کرکے شرمناک فعل کا مظاہرہ کیا ہے اور اس نے ہمارے بیانات ریکارڈ نہ کرکے قوانین اور آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔

ان پراسیکیوٹرز اور جج صاحب کو پہلے ہی ان کے عہدوں سے ہٹایا جاچکا ہے۔ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عاید کیا گیا تھا اور انھوں نے دسمبر 2013ء میں تب وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات شروع کردی تھی اور اس کی زد میں وہ خود اور ان کے چار وزراء آئے تھے۔بعد میں عدم شواہد کی بنا پر کرپشن کے اس کیس کو ختم کردیا گیا تھا۔

رجب طیب ایردوآن نے اس کرپشن اسکینڈل سے پیدا ہونے والا بحران کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا تھا اور وہ گذشتہ سال اگست میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں کامیاب رہے تھے اور ملک کے پہلے براہ راست بااختیار صدر بن گئے تھے۔انھوں نے امریکا میں مقیم دانشور علامہ فتح اللہ گولن اور ملکی انتظامیہ میں موجود ان کے پیروکاروں پر اس سازش کا الزام عاید کیا تھا اور اس کو ایک عدالتی بغاوت قرار دیا تھا۔

صدر طیب ایردوآن نے علامہ فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔اس اسکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد سے پولیس اور عدلیہ میں موجود گولن نواز عناصر کا صفایا کیا جا چکا ہے اور ان کے بہت سے حامیوں کی گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں۔

اب 7 جون کو ترکی میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں۔ان انتخابات میں حکمران جماعت آق اور حزب اختلاف کی لبرل جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔اس کے باوجود صدر ایردوآن نے اس اسکینڈل میں ملوث کرداروں کے خلاف نرمی کا مظاہرہ کرنے کو تیار نہیں اور انھوں نے کہا ہے کہ علامہ فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور ان کی گرفتاریاں جاری رہیں گی۔