اقوام متحدہ ایلچی کی جنگ بندی سے قبل صنعا آمد

یمنی فریقوں کے درمیان دوبارہ امن مذاکرات شروع کرانے کی کوشش کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کے آغاز سے چندے قبل دارالحکومت صنعا پہنچے ہیں۔

موریتانیہ سے تعلق رکھنے والے سفارت کار اسماعیل ولد شیخ احمد کو اپریل میں یمن کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا خصوصی ایلچی مقرر کیا گیا تھا اور یہ ان کا یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کی 26 مارچ سے جاری فضائی مہم کے بعد پہلا دورہ ہے۔

اس دوران آج رات مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجے جنگ بندی کا آغاز ہورہا ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک حوثیوں اور ان کے اتحادیوں پر فضائی حملے روک دیں گے اور جواب میں حوثی باغی بھی برسرزمین کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔قبل ازیں دارالحکومت صنعا میں فوج کے ایک اسلحہ ڈپو پر اتحادی طیاروں کی بمباری سے کم سے کم ستر افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایلچی کا اپنی آمد پر کہنا ہے کہ وہ سیاسی مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے یمنی فریقوں سے بات چیت کریں گے۔ حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ سبا نیوز ایجنسی نے ان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ''مذاکرات ہی یمنی مسئلے کا واحد حل ہیں''۔

واضح رہے کہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے فروری میں صنعا سے جان بچا کر عدن چلے جانے کے بعد مذاکرات کا عمل معطل ہوگیا تھا اور اقوام متحدہ کے سابق خصوصی ایلچی جمال بن عمر امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں