ایرانی دہشت گردی کی بازگشت کیمپ ڈیوڈ تک جا پہنچی

خلیجی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کانفرنس کا اہم مقصد: الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل احمد الجبیر نے کہا ہے کہ آج بدھ کو کیمپ ڈیوڈ سربراہ کانفرنس میں تین اہم موضوعات پر خصوصی طور پر غور کیا جائے گا۔ کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ممالک کے مابین فوجی تعاون کا فروغ، انسداد دہشت گردی اور خطے کے ممالک کو درپیش چیلنجز پرغور جیسے اہم موضوعات شامل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ ڈیوڈ سربراہ کانفرنس میں عرب خطے میں ایران کی بڑھتی مداخلت اور اس کی روک تھام کے مختلف پہلوئوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیرخارجہ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے بیرون ملک دورے کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ولی عہد اور نائب ولی عہد کے دورے کا مقصد سعودی عرب کے عالمی برادری کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو مزید تقویت دینا بالخصوص خلیج تعاون کونسل اور امریکا کے درمیان مستحکم تعلقات کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔

وزیر خارجہ عادل الجبیر نے واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارت خانے میں منعقدہ ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کیمپ ڈٰیوڈ سربراہ کانفرنس میں تین اہم موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ پہلا موضوع امریکا اور خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کا فروغ، اسلحہ اور جنگی ٹیکنالوجی کا تبادلہ ہوگا۔ اس میں مشترکہ فوجی مشقیں شامل ہوں گی۔ اسی ضمن میں خلیجی ممالک کی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

دوسرا اہم ضوع دہشت گردی کےخلاف جاری عالمی جنگ اور اس ضمن میں امریکا اور خلیجی ممالک کے تعلقات، جنگ میں کامیابی کے لیے باہمی تعاون پرتبادلہ خیال کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے بتایا کہ کیمپ ڈٰیوڈ کانفرنس کا تیسرا اہم موضوع علاقائی ممالک کو درپیش اندرونی اور بیرونی چیلنجز ہو گا۔ لبنان، شام، عراق، یمن اور لیبیا میں جاری شورش اور ان ملکوں کے استحکام پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ خطے بالخصوص یمن، شام اور لبنان میں ایران کی بڑھتی مداخلت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے دہشت گردی کی معاونت کرنے والی کئی تنظیموں کو مدد اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ دہشت گروپوں کے ’سہولت کار‘ ایران کے خلاف امریکا اور خلیجی ممالک متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں گے تاکہ خطے کو ایران کی طرف سے بڑھتے خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ کیمپ ڈٰیوڈ کانفرنس میں امریکا ایران کے متنازعہ جوہرہ پروگرام پر طے پائے سمجھوتے کے حوالے سے خلیجی ممالک کو اعتماد میں لے گا۔ کیمپ ڈیوڈ کانفرنس کے دیگر موضوعات میں سیکیورٹی اورعسکری امور، ٹیکنالوجی اور عسکری شعبوں میں امریکا اور خلیجی میں تعاون کو اعلیٰ سطح تک پہنچانا اور امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان فوجی تعلقات کو نئی بلندیوں سے ہمکنار کرنا ہے۔

سعودی وزیرخارجہ نے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کیمپ ڈیوڈ کانفرنس کا ایک اہم مقصد سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تزویراتی تعلقات کو مزید وسعت دینا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1945ء کے بعد سے مضبوط دوستانہ اور باہمی احترام پرمبنی تعلقات قائم ہیں۔ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ امریکا نے ہمیشہ سعودی عرب کی سلامتی کا خیال رکھا اور جواب میں سعودی عرب نے بھی امریکی سلامتی کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ عرب خطے میں ایرن کی بے جا مداخلت کو امریکا اور سعودی عرب ایک ہی نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ امریکا اور سعودی عرب ایران کی مشرق وسطیٰ میں مداخلت کی روک تھام کے لیے ہرممکن اقدامات پرمتفق ہیں۔ ریاض اور واشنگٹن دونوں لبنان، عراق اور یمن میں ایرانی مداخلت کومسترد کرچکے ہیں، کیمپ ڈیوڈ کانفرنس میں ایران کی خطے میں مداخلت کو بھی تفصیل سے زیربحث لایا جائے گا۔

یمن میں پانچ روزہ جنگ بندی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا مقصد انسانی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کو موقع دینا ہے۔ اگر حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی تواس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں