.

ایرانی جہازوں کو روکا گیا تو خلیج میں آگ لگا دیں گے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکام کی جانب سے خلیجی ممالک کے خلاف گیدڑ بھبکیوں اور بلا جواز دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف جنرل مسعود جزائری نے دھمکی دی ہے کہ اگرایران کے بحری جہازوں کو سعودی عرب اور امریکی بحریہ نے روکنے کی کوشش کی تو پورے خلیج میں آگ لگا دیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی فوجی عہدیدار کا بیان تہران حکومت کو اپنی عوام کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر مطمئن کرنا اور یہ بتانا ہے کہ حکومت یمن میں حوثیوں کی مدد کررہی ہے۔ مبصرین کا خیال کہ ایرانی حکومت کی جانب سے سمندر کےراستے یمن میں امدادی سامان کے ساتھ ساتھ فوجی جہاز بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ بہ ظاہر فوجی کشتیاں امدادی جہازوں کی سیکیورٹی کے لیے ہیں تاہم درپردہ ان کشتیوں کا مقصد حوثیوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔

جنرل جزائری نے ایران کے"العالم" ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "میں یہ بات وضاحت کے ساتھ کہتا ہوں کہ ایران کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے۔ سعودی عرب، امریکا اور اس کے حواری اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھیل تماشا اب بند کردیں۔ خطے میں ایران کے امدادی جہازوں کو روکنے کی کوشش کی گئی تو پورے خلیج میں آگ جائے گی اور پھر سب اس آگ کی لپیٹ میں ہوں گے۔

خیال رہے کہ ایرانی عہدیدار کی جانب سے امریکا اور سعودی عرب پر تنقید ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکی حکام نے جیبوتی کی جانب جانے والے ایران کے ایک بحری جہاز کو اپنا راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ جیبوتی میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں امدادی سامان کی تقسیم کے مشن پر اپنے جہاز بھیج رہا ہے، جن پر امدادی سامان لادا گیا ہے۔

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل اسٹیفن وارن نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ جب ایران کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ وہ یمن کے حوثی باغیوں کی مدد کے لیے جنگی جہاز روانہ کررہا ہے تو اس کے بعد ہم ایران کے ہر جہاز کی نگرانی کررہے ہیں۔

ادھر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ایک بحری جہاز ’’ایران شاھد‘‘ بدھ کو علی الصباح خلیجی ریاست اومان کے دارالحکومت مسقط کے ساحل کے قریب سے گذرا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ کے مطابق تہران حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی جہازبغیر کسی رکاوٹ کے سمندر میں اپنے مخصوص راستے پر چلتا رہا تو اگلے چھ روز میں یمن کی الحدیدہ بندرگاہ پر پہنچ جائے گا۔

تاہم امریکی وزارت دفاع ’’پینٹاگون‘‘ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم ایران کے تمام بحری جہازوں کی اس وقت سے نگرانی کررہے ہیں جب سے تہران نے یمن کے حوثیوں کو فوجی امداد کی فراہمی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ امدادی جہازوں کے ہمراہ فوجی جہاز بھی یمن بھیج رہے ہیں۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی جانب سے یمن کے لیے امدادی سامان بھیجا گیا ہے تو ہم اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ امدادی سامان کو براہ راست یمن بھجوانے کےبجائے اسے جیبوتی بھجوانا چاہیے جہاں اقوام متحدہ نے یمن کے متاثرین کے لیے امداد کے حصول کا ایک کیمپ قائم کیا ہے۔ جیبوتی میں جمع ہونے والی امداد کو اقوام متحدہ کے اداروں کے ذریعے یمن تک پہنچایا جا رہا ہے۔