.

داعش مخالف جنگ، نیٹو تمام''ممکنات'' کا جائزہ لے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولنٹبرگ نے کہا ہے کہ فوجی اتحاد عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ میں تمام ممکنات کا جائزہ لے گا۔

وہ ترکی کے ساحلی صوبے اناطالیہ میں تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اس اجلاس میں داعش اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق اہم ایشوز زیر غور آئیں گے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ نیٹواتحاد اس جنگجو گروپ کے خلاف مزید کیا اقدامات کرسکتا ہے۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر داعش کے خلاف جنگی اقدامات پر زوردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ترکی کو اپنی سرحدوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے چیلنج کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ'' داعش کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے،ہم اپنی دہلیز پر دہشت گردی کے تشدد کو بڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ترکی نیٹو کا واحد رکن ملک ہے جس کی سرحدیں داعش کے زیر قبضہ علاقوں کے ساتھ ملتی ہیں اور یہ دہشت گرد تنظیم ہماری قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرے کا موجب ہے''۔

احمد داؤد اوغلو نے داعش کے تشدد کی وجوہ واسباب سے نمٹنے کے لیے ایک ایسی جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زوردیا ہے جو عسکری ،سیاسی ،اقتصادی اور انسانی پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئے ہو۔

واضح رہے کہ ترکی کو شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے ماضی میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس نے طویل مذاکرات کے بعد اپنے ایک ہوائی اڈے کو امریکیوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

اس کے علاوہ امریکا اور ترکی کے درمیان فروری میں شام کے اعتدال پسند جنگجوؤں کو داعش کے خلاف جنگ کے لیے تیار کرنے کی غرض سے عسکری تربیت دینے کا سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت شامی باغیوں کے تربیتی عمل کا مارچ میں آغاز ہونا تھا لیکن اس میں مئی تک تاخیر کردی گئی تھی۔

اب ترک وزیر خارجہ مولود کاوس اوغلو نے سوموار کو ایک انٹرویو میں اطلاع دی ہے کہ فنی وجوہ کی بنا پر اس میں مزید تاخیر ہوگئی ہے۔داعش مخالف شامی جنگجوؤں کو تربیت دینے کے لیے امریکا کے فوجی دستے ترکی پہنچ چکے ہیں۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے وضع کردہ اس پروگرام کے تحت شام کے قریباً پندرہ ہزار جنگجوؤں کو تین سال میں مرحلہ وار فوجی تربیت دی جائے گی۔تاہم پینٹاگان کو اس پر سست روی سے عمل درآمد کی وجہ سے ری پبلکن ارکان کانگریس کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔