.

یمن میں صورت حال سنگین ہوچکی:عالمی ادارہ خوراک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارہ خوراک وزراعت (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں صورت حال انتہائی سنگین ہوچکی ہے اور اس وقت ملک میں ہر چیز کم یاب ہے۔

روم میں قائم ایف اے او کے ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈومینیک برژوین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یمن اپنی خوراک کی ضروریات کا 90 فی صد درآمد کرتا ہے۔ان میں گندم کی مصنوعات بھی شامل ہیں لیکن اس وقت ہر قسم کی درآمدات معطل ہوچکی ہیں''۔

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی 26 مارچ سے حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادیوں پر بمباری کے بعد یمن میں پانی ،ایندھن اور ادویہ کی شدید قلت ہوچکی ہے اور ایندھن کی قلت کا یہ مطلب ہے کہ جو کچھ ملک میں اس وقت مصنوعات دستیاب بھی ہیں،انھیں تقسیم کے لیے متاثرہ لوگوں تک نہیں پہنچایا جاسکتا ہے۔

جنگ کے نتیجے میں یمن کا آب پاشی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے اور مال مویشی بھی خوراک نہ ملنے کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔اس صورت حال میں سعودی عرب کی جانب سے اعلان کردہ پانچ روزہ جنگ بندی کے وقفے کے دوران عالمی خوراک پروگرام ،طبیبان ماورائے سرحد اور دوسری عالمی امدادی تنظیمیں متاثرہ لوگوں تک پہنچنے اور انھیں امدادی سامان مہیا کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

مسٹر ڈومینیک برژوین کا کہنا ہے کہ امداد مہیا کرنا ہی اس وقت کافی نہیں ہوگا کیونکہ اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کے تحت مہیا کی جانے والی خوراک یمن کی دو کروڑ چالیس لاکھ کی کل آبادی میں سے پچیس لاکھ لوگوں تک نہیں پہنچ سکے گی۔

انھوں نے تجارت اور درآمدات بحال کرنے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ضمن میں فنڈز مہیا کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ''چند ماہ قبل تک ایک کروڑ بیس لاکھ یمنی خوراک کے عدم تحفظ کا شکار تھے۔اب یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ چالیس لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ تک پہنچ چکی ہے''۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اب یمن میں قحط کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس کی بہت سے لوگوں کے لیے کوئی معنویت نہیں ہوگی کیونکہ اس وقت فوری طور پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ صورت حال بہت ہی سنگین ہوچکی ہے۔