.

جیل توڑنے پر سزائے موت، مرسی کا کیس مفتی اعظم کے حوالے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی ایک فوج داری عدالت نے پچیس جنوری 2011ء کے عوامی انقلاب کے دوران اخوان المسلمون کے اہم رہ نمائوں‌ کا جیل توڑ کر فرار ہونے سے متعلق کیس مفتی اعظم کے حوالے کردیا ہے۔ فوجی عدالت میں جیل توڑنے کے الزام میں اخوان المسلمون سے وابستہ رہنے والے سابق مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی، جماعت کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع، ممتاز عالم دین علامہ یوسف القرضاوی سمیت 105 اہم اخوانی کارکنوں پر سزائے موت کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔

جماعت کے دیگر رہ نمائوں میں خیرت الشاطر، محمد البلتاجی اورسعد الکتاتنی جبکہ فلسطینی تنظیم "حماس" کے بعض ارکان کو بھی جیل توڑنے میں‌ معاونت کے الزام میں ماخوذ قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پچیس جنوری 2011ء کو سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت کے عروج کے وقت قاہرہ کے قریب النطرون جیل کو توڑ کر ہزاروں قیدی فرار ہوگئے تھے۔ جیل توڑنے کے واقعے کے دوران قیدیوں‌ نے کئی پولیس اہلکاروں کو بھی قتل کردیا تھا۔

دو سال پیشتر جب اخوان الملسمون کے صدر محمد مرسی کے خلاف فوج نے بغاوت کی تو اُنہیں جماعت کی صف اول کی قیادت کے ہمراہ حراست میں لے لیا گیا۔ ان پر جہاں اور کئی مقدمات ہیں، وہیں جیل توڑ کر فرار ہونے اور پولیس اہلکاروں‌ کو قتل کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔

انقلابی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس وقت کی حکومت نے اپنے خلاف بغاوت کو ختم کرنے اور تحریر اسکوائر میں‌ جاری دھرنا اٹھانے کے لیے جیل کھول دی تھی تاہم حکومتی ذرائع ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ جیل توڑنے کے مقدمے میں 70 فلسطینی بھی ملوث بتائے جاتے ہیں، جن میں بیشتر حماس اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے کارکن ہیں۔

خیال رہے کہ مصر میں کسی بھی فوج داری مقدمے میں مفتی جمہوریہ کی رائے محض ایک مشورہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مفتی اعظم کی جانب سے رائے سامنے آنے کے بعد پیش آئند جولائی میں عدالت اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے۔

آج ہفتے کے روز عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے وقت سابق صدر بھی ایک پنجرہ نما آہنی قید خانے میں عدالت میں‌پیش کیے گئے۔ سابق صدر کے خلاف یہ نیا مقدمہ ایک ایسے وقت میں سنایا جا رہا ہے جب چند ہی روز پیشتر ایک دوسرے کیس میں انہیں 20 سال قید بامشقت کی سزا ہوچکی ہے۔