.

عدن میں حوثی باغیوں کی کمان ایرانی کررہے ہیں: جنگجو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے ہاں یرغمال بنائے گئے ایک حوثی جنگجو نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی یمن کے علاقے عدن میں پانچ اہم ایرانی کمانڈر حوثیوں کی کمان کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ زیرحراست حوثی جنگجو نے دوران تفتیش بتایا کہ عدن ہوائی اڈے پر حوثیوں کی کمان پانچ ایرانی کمانڈر کررہے ہیں ان میں ایک کو ابو زھراء کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ایک مقامی نیوز ویب پورٹل "عدن الغد" کے مطابق مزاحمتی کارکنوں نے مقبل فواد علی مقبل نامی ایک حوثی جنگجو کو حال ہی میں عدن سے حراست میں لیا۔ اس نے دوران تفتیش بتایا کہ ایرانی کمانڈر ایک اجنبی زبان میں بات کرتے ہیں۔ حوثی ملیشیا میں‌ شامل صلاح نامی جنگجو ہی ان کی زبان جانتا ہے۔ وہ ایرانیوں کی ہدایات سن کر ہمیں اس کا ترجمہ کر کے سمجھاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق حوثی جنگجو کو عدن ہوائی اڈے سے باہر نکلنے کے بعد الخضراء شہر کی طرف جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔ وہ اس وقت جنوبی الخضراء میں مزاحمتی کمیٹی کی تحویل میں ہے۔

حوثی شدت پسند کا مزید کہنا ہے کہ جنگ میں شمولیت کے لیے انہیں رقوم دی جاتی ہیں۔ حوثیوں اور سابق صدر علی صالح کی حامی اہم قیادت بھی عدن اور الخضراء آتی جاتی رہتی ہے۔

دوران حراست جنگجو نے بتایا "ہم لوگ تعز شہر میں تھے اورہماری تعداد 25 تھی۔ ہمیں کہا گیا کہ داعشیوں سے لڑنے اور جہاد کے لیے تیار ہوجائو۔ تمہیں اس کے عوض یومیہ 2500 یمنی ریال بھی ملیں گے۔"

حوثی جنگجو کا کہنا تھا کہ میں‌ نے خود ہی بغاوت کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ حوثی بے گناہ شہریوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ ہمیں بھی کہا جاتا تھا کہ ہم نہتے شہریوں پر اندھا دھند گولیاں چلائیں۔