.

ابوسیاف کا قتل، داعش کے لیے ایک بڑا دھچکا

امریکی وزیردفاع کے حکم پر کمانڈوز کی شامی علاقے میں چھاپہ مار کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے شام میں داعش کے ایک سرکردہ کمانڈر ابو سیاف کی اپنی خصوصی فورسز کی چھاپہ مار کارروائی میں ہلاکت کو اس سخت گیر جنگجو گروپ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

امریکی کمانڈوز نے ہفتے کے روز شام کے مشرقی علاقے العمر میں ابو سیاف کے خلاف کارروائی کی تھی جس میں وہ لڑتے ہوئے مارے گئے تھے اور امریکی کمانڈوز ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے ساتھ لے گئے تھے۔

ایش کارٹر کا کہنا ہے کہ''ابو سیاف داعش کی فوجی کارروائیوں کے ذمے دار تھے اور وہ اس دہشت گرد تنظیم کو تیل ،گیس کی غیرقانونی فروخت کے علاوہ مالیاتی وسائل مہیا کرنے کا انتظام کیا کرتے تھے۔وہ امریکی فورسز کی کارروائی کے دوران جھڑپ میں مارے گئے تھے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''یہ کارروائی داعش کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے اور اس سے امریکا کے اس عزم کی بھی عکاسی ہوتی ہے کہ ہمارے شہریوں اور ہمارے دوستوں اور اتحادیوں کے لیے خطرے کا موجب دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے صرف نظر نہیں کیا جائے گا''۔

ابو سیاف تیونس کے شہری تھے اور ان کے بارے میں امریکی حکام نے بتایا ہے کہ وہ داعش کے اعلیٰ مالیاتی آفیسر (چیف فنانشیل آفیسر) تھے اور انھیں تیل اور گیس کے شعبے میں مہارت حاصل تھی۔وہ داعش کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان کے حوالے سے ابلاغیات کے ذمے دار تھے۔

امریکی کمانڈوز نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران ان کی جائے قیام سے ابلاغاتی آلات اور کمپیوٹرز وغیرہ بھی برآمد کیے تھے اور وہ انھیں ساتھ لے گئے ہیں۔ایک امریکی عہدے دار نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے ایسا ڈیٹا حاصل کر لیا ہے جس سے یہ پتا چلا ہے کہ داعش کیسے کام کرتی ،ابلاغ کرتی اور رقوم حاصل کرتی ہے''۔

امریکی کمانڈوز نے ابو سیاف کی اہلیہ کو گرفتاری کے بعد عراق میں امریکی فوج کے زیر انتظام ایک حراستی مرکز میں منتقل کردیا ہے۔شام میں امریکی خصوصی فورسز کی یہ پہلی کارروائی ہے جس کا اس طرح علانیہ اظہار کیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل انھوں نے داعش کے ہاتھوں یرغمال امریکی صحافی جیمز فولی اور دوسرے شہریوں کی رہائی کے لیے کارروائی کی تھی لیکن یہ کوشش ناکام رہی تھی اور امریکی کمانڈوز کسی بھی یرغمالی کو رہا نہیں کرا سکے تھے۔ان میں سے بعض کو داعش کے مشہور زمانہ قصاب جہادی جان نے بے دردی سے قتل کردیا تھا۔