.

حوثیوں کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا منہ توڑ جواب

مزاحمتی کارکنوں‌ کا حوثی ملیشیا کی بس پر جوابی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں‌ جاری ہیں۔ یمن کے مختلف شہریوں میں حوثیوں کے حملے کے جواب میں صدر عبد ربہ منصور ھادی کے وفاداروں نے بھرپور جوابی حملے کیے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عوامی مزاحمتی تنظیموں کے کارکنوں‌نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر القاعدہ شہر میں حوثی ملیشیا کی ایک بس پر حملہ کیا جس میں متعدد شدت پسندوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا امکان ہے۔ مزاحمتی کارکنوں نے حوثیوں علی صالح کی حامی ملیشیا کی فائرنگ کا بھی منہ توڑ جواب دیا ہے۔

یمن میں مزاحمتی کمیٹیوں کے ایک ذرائع نے"العربیہ" کو بتایا کہ مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ملیشیا اور حوثیوں‌ نے ان کے ٹھکانوں‌ پر "ہاون"راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں‌ سے حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں‌ متعدد مزاحمت کار جاں‌ بحق ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے حوثی ملیشیا کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے اور باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی گئی ہے۔ مزاحمتی کارکنوں کی جوابی فائرنگ سے "کاتیوشا" میزائل لے جانے والی ایک گاڑی اور حوثیوں کا ایک ٹینک تباہ کردیے گئے ہیں۔

یمن میں‌آئینی حکومت کی بحالی کے لیے اتحادی ممالک کے ہمراہ آپریشن میں باغیوں کے خلاف سرگرم مزاحمتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا بھرپور جواب دیں گے اور سیزفائر کی خلاف ورزی پر خاموش نہیں رہیں گے۔