.

داعشی جنگجو بحیرہ روم سے یورپ جارہے ہیں: لیبی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجو سمگلروں کی مدد سے تارکین وطن کے بہروپ میں بحیرہ روم کے راستے سے یورپ میں داخل ہورہے ہیں۔

لیبی حکومتی عہدیدار عبدالباسط ہارون نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹریو میں بتایا ہے کہ سمگلروں نے تارکین وطن سے بھری کشتیوں میں داعش کے جنگجو چھپا رکھے ہوتے ہیں جنہیں خفیہ طور پر یورپ منتقل کردیا جاتا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں یہ اطلاع شمالی افریقہ میں داعش کے زیر تسلط علاقوں میں کاروبار کرنے والے کشتی مالکان نے دی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ داعش سمگلروں کی کمائی کے 50 فیصد حصے کے بدلے میں انہیں ان علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق تقریبا 6000 تارکین وطن نے بحیرہ روم سے اس سال یورپ میں آنے کی کوشش کی ہے۔

سنہ 2015ء کے آغاز سے اب تک تقریبا 1800 افراد کشتیوں کو حادثات رونما ہونے کی صورت میں جانیں گنوا چکے ہیں۔ یہ تعداد سنہ 2014ء کے دوران اسی دورانیے میں ہونے والی ہلاکتوں سے 20 گنا زائد ہے۔

ہارون کے مطابق داعش ان کشتیوں میں اپنے جنگجوئوں کو اس لئے یورپ بھیج دیتی ہے کیوںکہ یورپی پولیس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کون داعش کا رکن ہے اور کون نہیں۔

حملوں کی منصوبہ بندی

ہارون کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجو مستقبل میں یورپ میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اس سے پہلے سال 2015 کے اوائل میں یورپی یونین کی بارڈر کنٹرول ایجنسی نے خبردار کیا تھا کہ غیر ملکی جنگجوئوں کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ غیر قانونی مہاجرین کے ساتھ بحیرہ روم سے سفر کرنے ہوئے یورپ پہنچ جائیں۔

عراق اور شام میں وسیع علاقوں اور حالیہ مہینوں میں لیبیا میں سرگرم انتہاپسند تنظیم داعش شمالی افریقہ کے اس ملک میں معمر قذافی کے اقتدار کےخاتمے کے بعد طاقت کے حصول کے لئے پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔