.

مرسی سمیت 105 اخوانیوں کو سزائے موت پر امریکا کو تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا کو مصری عدالت کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کو سزائے موت کا فیصلہ سنانے پر شدید تشوش لاحق ہے۔

امریکی عہدیدار نے عدالت کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ایک بیان میں کہا "ہمیں مصری عدالت کی جانب سے ایک بار پھر 100 سے زائد مدعا علیہان کو جن میں سابق صدر محمد مرسی بھی شامل ہیں، اجتماعی طور پر سزائے موت سنانے پر شدید تشویش ہے۔" مصری عدالت کے اس فیصلے کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا "ہم نے بار ہا مصر میں اجتماعی سماعتوں اور سزائوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے کیوںکہ اس طرح کے اقدامات مصر کے بین الاقوامی معاہدوں کی عدم پاسداری اور قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔"

مصر کے معزول صدر محمد مرسی اور ان کے ساتھ ان کی سابق جماعت اخوان المسلمون کے 105 ارکان کو 2011ء میں جیل توڑنے کے مقدمے کا سامنا تھا۔ اس مقدمے میں بہت سے ان لوگوں کو سزا سنائی گئی جو کہ سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود نہ تھے۔ ان افراد میں معروف عالم دین یوسف القرضاوی بھی شامل ہیں جو کہ قطر میں رہائش پذیر ہیں۔

مصری عدالت نے اخوان المسلمون کے ایک اور رہنما خیرات الشاطر کو بھی غیر ملکی جنگجوئوں کے ساتھ مل کر ملک کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں سزائے موت سنادی ہے۔

اس فیصلے کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عدالت کے فیصلے کو کالعدم طریقوں سے تیار کردہ ڈرامہ قرار دیا اور ملزمان کی رہائی یا سویلین عدالت میں مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مصر کی عدالت کے فیصلے پر تنقید کی اور مغرب پر الزام لگایا کہ وہ منافقت سے کام لے رہا ہے۔ ایردوآن کا کہنا تھا "مغرب اپنے ہاں تو سزائے موت کو ختم کررہا ہے مگر مصر میں سزائے موت کے فیصلوں پر کچھ بھی نہیں کررہا ہے۔"

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مریس کو 2013ء میں فوج کی جانب سے اقتدار سے نکال دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی ایک مقدمے میں سابق صدر کو 20 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔