.

یمنی صدر کا اقوام متحدہ کی قرارداد پرعمل درآمد کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن سے متعلق اپنی قرارداد نمبر 2216 پر عمل درآمد کرائے۔

منصور ہادی اتوار کو سعودی دارالحکومت الریاض میں ہونے والی تین روزہ یمنی ڈائیلاگ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ہی یمنی بحران کے حل کے لیے مستقبل میں ہونے والی کسی بھی بات چیت کی بنیاد ہوگی۔

سلامتی کونسل نے یمن سے متعلق قرارداد نمبر 2216 اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت اپریل میں منظور کی تھی۔اس کے تحت حوثی باغیوں کے لیڈر عبدالملک الحوثی اور سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح پر پابندی عاید کردی گئی تھی۔سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے اس قرارداد کی منظوری تھی۔صرف روس رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہا تھا اور اس نے اس کو ویٹو نہیں کیا تھا۔

صدر منصور ہادی نے حوثی ملیشیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یمن کی تاریک قوتوں نے شہریوں کو ہلاک کیا ہے اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے،انھیں بہت جلد شکست سے دوچار کیا جائے گا''۔

صدر ہادی نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ملک کی تعمیر کے لیے کام کررہی ہے جبکہ حوثی اس کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔انھوں نے اپنی تقریر میں خلیج تعاون کونسل اور خاص طور پر سعودی عرب کا یمن بحران کے حوالے سے ان کی حکومت کے حق میں مؤقف اپنانے پر شکریہ ادا کیا۔

جنگ بندی میں توسیع ؟

الریاض کانفرنس کے دوران یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے پانچ روزہ جنگ بندی میں مزید توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک نے گذشتہ منگل کی شب پانچ روز کے لیے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں پرفضائی حملے روک دیے تھے۔اس کی مدت آج اتوار کی شب سے ختم ہورہی ہے۔

لیکن شیخ اسماعیل نے اپنی تقریر میں تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کم سے کم مزید پانچ روز کے لیے اس جنگ بندی میں توسیع کردیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی بنیاد پر اس جنگ بندی کو مستقل کیا جانا چاہیے۔

الریاض میں یمنی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کو حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں نے مسترد کردیا تھا اور ان کے نمائندوں کی عدم شرکت سے اس کانفرنس سے یمنی بحران کے حل کے لیے امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کی بعض سرکردہ شخصیات اس کانفرنس میں شریک ہیں اور انھوں نے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔